
ممبئی ، 7 مئی (ہ س) مہاراشٹر میں ملاوٹ خوروں اور ممنوعہ غذائی اشیاء کے غیرقانونی کاروبار کے خلاف فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ریاست گیر خصوصی مہم چلاتے ہوئے بڑی کارروائی انجام دی ہے۔ اس مہم کے دوران مختلف اضلاع میں 290 مقامات پر چھاپے مار کر تقریباً 2 کروڑ 52 لاکھ 23 ہزار 684 روپے مالیت کا ممنوعہ سامان ضبط کیا گیا، جبکہ 261 ایف آئی آر درج کرتے ہوئے 288 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ممبئی میں مشہور دودھ کمپنیوں کے دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرنے والے ایک منظم گروہ کا بھی پردہ فاش کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں پانچ ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بعد ملاوٹ کے ایک بڑے نیٹ ورک کے سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر کی جانب سے 16 جولائی 2025 کو جاری کردہ حکم کے مطابق گٹکھا، پان مسالہ، خوشبودار تمباکو، خوشبودار سپاری، خرّا، ماوا اور دیگر ملاوٹی چبانے والے تمباکو مصنوعات کی تیاری، ذخیرہ، نقل و حمل، تقسیم اور فروخت پر پورے مہاراشٹر میں پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے باوجود ممنوعہ مصنوعات کی غیرقانونی فروخت کی مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں، جس کے بعد ایف ڈی اے نے خصوصی مہم شروع کی۔
یکم اپریل 2026 سے 30 اپریل 2026 کے درمیان ریاست بھر میں 290 مختلف مقامات پر کارروائیاں کی گئیں۔ ان چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں ممنوعہ غذائی اشیاء اور تمباکو مصنوعات ضبط کی گئیں۔ مختلف پولیس اسٹیشنوں میں 261 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 288 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب ممبئی میں دودھ میں ملاوٹ کرنے والے گروہ کے خلاف 9 اپریل 2026 کی صبح ممبئی کرائم برانچ یونٹ-9 اور ممبئی ایف ڈی اے کی مشترکہ ٹیم نے ورسوا علاقے میں چار مقامات پر چھاپہ مارا۔ جانچ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ معروف دودھ کمپنیوں کے پیکٹ کھول کر ان میں پانی ملایا جا رہا تھا۔
اس معاملے میں پانچ ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے ورسوا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ کارروائی کے دوران آٹھ غذائی نمونے جانچ کے لیے حاصل کیے گئے جبکہ تقریباً 621 لیٹر ملاوٹی دودھ کو تباہ کر دیا گیا، جس کی مالیت 36 ہزار 219 روپے بتائی گئی ہے۔
یہ پوری مہم وزیر نرہری جھیروال، افسر دھیراج کمار اور کمشنر شری دھر دوبے پاٹل کی رہنمائی میں چلائی گئی۔ فوڈ شعبہ کے جوائنٹ کمشنر مہیش چودھری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ممنوعہ غذائی اشیاء سے دور رہیں اور کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے