
علی گڑھ, 07 مئی (ہ س)۔
فیکلٹی آف یونانی میڈیسن، اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں طبیہ کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر سعود علی خاں کی مغفرت اور لواحقین سے اظہارِ تعزیت کے لیے ایک تعزیتی نشست، ڈین، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن پروفیسر سید محمد صفدر اشرف کی صدارت میں منعقد کی گئی، جس میں مختلف شعبہ جات کے صدور، سینئر فیکلٹی اراکین اور دیگر اساتذہ نے شرکت کی۔تعزیتی نشست میں مقررین نے مرحوم کی شخصیت، علمی خدمات اور انتظامی صلاحیتوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ صدر شعبہ علم الادویہ پروفیسر عبدالرؤف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم صرف ایک پرنسپل نہیں بلکہ ادارے کی ترقی اور استحکام کے معمار تھے۔ انہوں نے کالج کی توسیع، ترقیاتی منصوبوں اور بالخصوص طبیہ کالج اسپتال میں مسجد کی تعمیر جیسے اہم اقدامات انجام دیے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر سعود علی خاں، طبیہ کالج کی تاریخ کا ایک روشن باب تھے۔پروفیسر تفسیر علی نے مرحوم کی قائدانہ صلاحیتوں اور طبیہ کالج سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ان کے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کالج کی ایک مضبوط آواز تھے اور مدلل انداز میں ادارے کی بہتری کے لیے اپنی بات پیش کرتے تھے۔پروفیسر روبی انجم نے مرحوم کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شخصی خوبیوں کو اجاگر کیا، جبکہ پروفیسر ایف ایس شیرانی نے مرحوم کی جرأت، بے باکی اور حق گوئی کو ان کی نمایاں خصوصیات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نہایت مضبوط اعصاب کے مالک تھے اور کالج و اس سے وابستہ افراد کے حقوق کے لیے بے خوف انداز میں آواز بلند کرتے تھے۔اجمل خاں طبیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مرحوم کی علمی و انتظامی خدمات کا ذکر کیا۔ انہوں نے طبیہ کالج کی ترقی میں مرحوم کے نمایاں کردار، انتظامی صلاحیت اور ان کی سادہ و باوقار شخصیت کا ذکر کیا۔صدارتی خطاب میں پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف نے مرحوم کے ساتھ اپنے دیرینہ علمی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خوش مزاجی، بلند حوصلگی اور کالج کی تعمیر و ترقی کے لیے انجام دیے گئے کاموں کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر سعود علی خان کی وفات علمی و تعلیمی حلقوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آخر میں انہوں نے لواحقین اور حاضرین کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔واضح رہے کہ پروفیسر سعود علی خان نے 2001 میں اجمل خاں طبیہ کالج کے پرنسپل کا عہدہ سنبھالا اور 2021 تک اس منصب پر فائز رہے۔ وہ سی سی آئی ایم کے رکن بھی رہے۔ مرحوم گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور مختلف ماہر معالجین کے زیرِ علاج رہے۔ 4 مئی 2026 کو پیر کی شب انہوں نے 70 برس کی عمر میں انتقال کیا۔ ان کی نمازِ جنازہ یونیورسٹی قبرستان میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ پسماندگان میں اہلیہ، 4 بیٹیاں اور 2 بیٹے شامل ہیں۔
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ