
ممبئی ، 7 مئی (ہ س)۔ تھانے کی مصروف ترین اور اہم شاہراہوں میں شمار ہونے والی ایسٹرن ایکسپریس یعنی ٹھانے-گھوڈبندر روڈ پر سفر اب شہریوں کے لیے خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ میٹرو تعمیراتی کام اور بڑھتی ہوئی ٹریفک بھیڑ کے درمیان اب کھلے ڈمپرز کے ذریعے پتھروں کی نقل و حمل نے مسافروں کی مشکلات اور خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق گھوڈبندر روڈ پر بڑی تعداد میں ایسے ڈمپر چل رہے ہیں جو تعمیراتی پتھر اور دیگر سامان بغیر کسی حفاظتی انتظام کے لے جا رہے ہیں۔ قواعد کے مطابق تعمیراتی مواد یا پتھروں کی منتقلی کے دوران گاڑیوں کو ترپال یا جالی سے مکمل طور پر ڈھانپنا ضروری ہوتا ہے، تاہم کئی ڈرائیور ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھلے ڈمپرز میں تیز رفتاری سے پتھر منتقل کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گھوڈبندر روڈ پر پہلے ہی گاڑیوں کا شدید دباؤ رہتا ہے، ایسے میں اگر کسی ڈمپر سے پتھر سڑک پر گر جائے تو خاص طور پر دو پہیہ گاڑی سواروں کے لیے جان لیوا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ اچانک پتھر گرنے کی صورت میں پیچھے آنے والی گاڑیوں کا توازن بگڑنے اور زنجیری حادثات ہونے کا بھی شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔مقامی شہریوں کے مطابق سڑک کے کئی حصے تنگ ہونے کی وجہ سے ان بھاری ڈمپرز کے درمیان سفر کرنا خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے باوجود متعلقہ محکموں کی جانب سے خاطر خواہ کارروائی نظر نہیں آ رہی۔تھانے کے سینئر کارپوریٹر منوہر ڈمبری نے اس معاملے پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گھوڈبندر روڈ پر کھلے ڈمپرز کے ذریعے پتھروں کی منتقلی عوام کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قواعد توڑنے والے ڈرائیوروں اور متعلقہ ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔منوہر ڈمبری نے سوال اٹھایا کہ مختلف مقامات پر ٹریفک پولیس تعینات ہونے کے باوجود کھلے عام قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈمپرز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ٹرانسپورٹ دفتر اور ٹریفک پولیس کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے زمینی سطح پر بھی سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے