سائینا فنانشل ایڈوائزر پر 400 کروڑ کی ٹھگی کا الزام،اب تک تین ایف آئی آر درج
علی گڑھ, 06 مئی (ہ س)۔ علی گڑھ شہر کے لیڈمارک مال، میرس روڈ واقع سائینا فنانشل ایڈوائزر کمپنی پر تقریباً 400 کروڑ روپے کی بڑی مالی ٹھگی کا معاملہ مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سماجی کارکن و ایڈوکیٹ شاہد علی خان نے آج متاثرہ افراد کے
فراد کے خلاف پریس کانفرنس


علی گڑھ, 06 مئی (ہ س)۔

علی گڑھ شہر کے لیڈمارک مال، میرس روڈ واقع سائینا فنانشل ایڈوائزر کمپنی پر تقریباً 400 کروڑ روپے کی بڑی مالی ٹھگی کا معاملہ مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سماجی کارکن و ایڈوکیٹ شاہد علی خان نے آج متاثرہ افراد کے ساتھ ہیبی ٹیٹ سینٹر، لال ڈگی میں واقع سیفائر ڈائننگ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اہم انکشافات کیے۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ کمپنی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور شہر علی گڑھ کے تقریباً 300 سے 400 ملازمین سمیت بڑی تعداد میں لوگوں سے سرمایہ کاری کے نام پر کروڑوں روپے کی ٹھگی کی ہے۔ اس معاملے میں سول لائن تھانے میں اب تک تین ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں، جن میں دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش کی دفعات شامل ہیں۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ مرکزی ملزم جنید احمد کے بھائی ڈاکٹر سہیل (جے این ایم سی) اور محمد اوقیس (جے این ایم سی لیب اٹینڈنٹ) نے بھی لوگوں کو سائینا فنانشل ایڈوائزر میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی۔ متعدد متاثرین کا کہنا ہے کہ انہی افراد کے ذریعے انہیں کمپنی کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں اور انہوں نے سرمایہ کاری کی۔

ایڈوکیٹ شاہد علی خان نے مزید بتایا کہ جنید احمد اور دیپک کمار کے ذریعہ سائینا فنانشل ایڈوائزر، سائینا ہالیڈیز اور سائینا انویسٹمنٹ کے نام سے کمپنیاں چلائی جا رہی تھیں، جہاں لوگوں کو ہر ماہ منافع کا لالچ دے کر سرمایہ کاری کرائی گئی۔

پریس کانفرنس میں متاثرین بھی بڑی تعداد میں موجود رہے، جن میں مینا فرقان زوجہ فرقان (جنگل گڑھی)، شبانہ زوجہ راشد (کھیر روڈ)، نذیر الحسن ولد شمس الحسن، اشر خان ولد آصف علی خان، طارق حسین ولد طاہر حسین (الحمد اپارٹمنٹ)، رضوان اللہ ولد ثناء اللہ اور محمد عمران شامل ہیں۔ ان افراد نے اپنے ساتھ ہونے والی ٹھگی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

شاہد علی خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی لالچ میں آکر اپنی محنت کی کمائی مشتبہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہ کریں۔ ساتھ ہی جن لوگوں کے ساتھ ٹھگی ہوئی ہے وہ خوفزدہ نہ ہوں اور فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کرائیں تاکہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کمپنی کا دفتر بند ہو چکا ہے اور مرکزی ملزمان جنید احمد، دیپک کمار سمیت دیگر افراد فرار ہیں، جن کے بیرون ملک فرار ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande