مہاجر کشمیری پنڈتوں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا
جموں، 06 مئی (ہ س)۔ مہاجر کشمیری پنڈتوں نے بدھ کے روز جموں و کشمیر انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا، جس کے تحت ان کے ریلیف راشن کو نیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) میں ضم کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے ریلیف کمشنر کے دفتر کی جانب مارچ ک
Protest


جموں، 06 مئی (ہ س)۔

مہاجر کشمیری پنڈتوں نے بدھ کے روز جموں و کشمیر انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا، جس کے تحت ان کے ریلیف راشن کو نیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) میں ضم کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے ریلیف کمشنر کے دفتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس دوران پولیس کے ساتھ معمولی جھڑپیں بھی پیش آئیں۔مظاہرین نے اس اقدام کو اپنی مہاجر اور نسل کشی کے متاثرین کی حیثیت کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق انتظامیہ مہاجرین کے راشن کارڈز کو این ایف ایس اے ڈیٹا بیس میں شامل کر رہی ہے۔ یہ عمل 2026 کے اوائل میں شروع ہوا تھا اور اب تک 17 ہزار 500 سے زائد راشن کارڈز ضم کیے جا چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر50 ہزارسے زائد خاندانوں کو اس میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔احتجاج میں یونائیٹڈ الائنس آف کشمیری ڈسپلیسڈ کمیونٹی، پنن کشمیر اور دیگر تنظیموں کے ارکان کے علاوہ مختلف مہاجر کیمپوں کے رہائشیوں نے شرکت کی، جبکہ شیو سینا نے بھی اس کی حمایت کی۔ جگتی، پرکھو، نگروٹہ اور مٹھی کیمپوں کے رہائشیوں نے ریلیف کمشنر کے دفتر کے باہر جمع ہو کر نعرے بازی کی۔پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا، جس کے باعث دھکم پیل اور مختصر جھڑپیں ہوئیں۔

بعد ازاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا، تاہم مظاہرین نے وہیں دھرنا دے کر احتجاج جاری رکھا۔کمیونٹی رہنماؤں نے این ایف ایس اے کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کشمیری پنڈتوں کی شناخت متاثر ہوگی اور ان کے بازآبادکاری حقوق کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور بے گھر افراد کے لیے مستقل اور باعزت حل نکالا جائے، بصورت دیگر احتجاج کو مزید وسیع کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande