مدھیہ پردیش میں گیہوں کی خریداری پر معرکہ آرائی، کانگریس کا الزام- نظام فیل، 7 مئی کو ریاست گیر چکہ جام کا اعلان
بھوپال، 06 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں گیہوں کی خریداری کو لے کر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس نے ریاستی حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے خریداری کے نظام کو مکمل طور پر ناکام، ابتر اور کسان مخالف قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کا انتظ
ایم پی کے صوبائی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس کارکنان


بھوپال، 06 مئی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش میں گیہوں کی خریداری کو لے کر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس نے ریاستی حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے خریداری کے نظام کو مکمل طور پر ناکام، ابتر اور کسان مخالف قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کا انتظامی ڈھانچہ بے حال ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

اس مدعے پر بدھ کے روز بھوپال میں صوبائی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق وزیر پی سی شرما، شہر کانگریس صدر پروین سکسینہ، دیہی صدر انوکھی مان سنگھ پٹیل، سابق لوک سبھا امیدوار ارون شریواستو، تنظیم کے جنرل سکریٹری ابھیشیک شرما اور صوبائی ترجمان جتیندر مشرا موجود تھے۔ کانگریس لیڈروں کے مطابق، خریداری اور سلاٹ بکنگ کی تاریخوں میں بار بار توسیع اس بات کی علامت ہے کہ حکومت تیاریوں میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ خریداری کے ابتدائی 14 دنوں میں صرف 5.9 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کی خریداری ہو سکی، جو حکومت کی سست رفتار کارکردگی اور کمزور بندوبست کو بے نقاب کرتا ہے۔

کانگریس نے الزام لگایا کہ ریاست کے کسان سلاٹ بکنگ میں دشواری، رجسٹریشن سلپ اپ لوڈ کرنے میں تکنیکی خامیاں، ادائیگی میں تاخیر اور خریداری مراکز پر بدامنی جیسے مسائل سے دو چار ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ کئی مراکز پر پینے کے پانی، سائے، بیٹھنے کے انتظام، بیت الخلا اور سیکورٹی جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ کسان اپنی پیداوار فروخت کرنے کے لیے گھنٹوں نہیں، بلکہ کئی دنوں تک انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔

خریداری میں تاخیر کی وجہ سے ہزاروں کسانوں کو اپنا گیہوں 1800 سے 2200 روپے فی کوئنٹل کے درمیان تاجروں کو فروخت کرنا پڑا، جس سے انہیں مالی نقصان ہوا۔ کانگریس نے اسے حکومت کی پالیسی پر مبنی ناکامی قرار دیا ہے۔ کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کو امدادی قیمت 2625 روپے فی کوئنٹل دی جائے اور جن کسانوں نے مجبوری میں کم قیمت پر گیہوں فروخت کیا ہے، انہیں فرق کی رقم براہِ راست کھاتوں میں دی جائے۔ ساتھ ہی مونگ کی خریداری، سویا بین پر 6 ہزار روپے فی کوئنٹل کے وعدے اور دیگر فصلوں کی مناسب قیمت کے حوالے سے بھی حکومت سے جواب مانگا گیا ہے۔

کسانوں کے مسائل کو لے کر کانگریس نے 7 مئی 2026 کو ریاست گیر چکہ جام تحریک کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، بھوپال ڈویژن کے تمام اضلاع کے کارکنان، کسان نمائندے اور عام لوگ شاجاپور میں جمع ہو کر آگرہ-ممبئی شاہراہ پر احتجاج کریں گے۔ کانگریس لیڈروں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرنا جاری رکھا، تو پارٹی سڑک سے لے کر ایوان تک جدوجہد تیز کرے گی اور کسانوں کے حق کی لڑائی جاری رکھے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande