
نئی دہلی،06مئی (ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند کی اعلیٰ قیادت نے حالیہ اسمبلی انتخابات خاص کر مغربی بنگال میں چناو¿ کے دوران شفافیت کی کمی اور اس کے بعد ہونے والے پر تشدد واقعات پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔جماعت اسلامی ہند نے ملک میں بڑھتی ہوئی منہگائی اور شدید گرمی کی لہر پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔
ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا، آسام اور پڈوچیری میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں میں نئی حکومتیں قائم ہونے جا رہی ہیں جبکہ کچھ میں حکومتیں دوبارہ منتخب ہوئی ہیں، تاہم تمام حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں عوامی مفاد اور ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک اس وقت معاشی دباو¿، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی قیمتیں، تعلیم، ترقی اور سماجی انصاف جیسے سنگین مسایل سے دوچار ہے۔ان مسائل کو حل کرنے کے لیے علامتی اقدامات کے بجائے فوری اور ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال میں امن و امان کی فوری بحالی اور چناو¿ کے بعد ہونے والے پر تشدد واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
ملک معتصم خان نے مغربی بنگال میں انتخابی عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں، کمزور طبقات کو حق رائے دہی سے محروم کئے جانے اور سرکاری مشینری کے غلط استعمال کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز بیانیے نے سماج کے جمہوری ماحول کو خراب کیا اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔ اسی طرح دیگر ریاستوں، خاص کر آسام میں بھی دولت کا بے جا استعمال، پروپیگنڈہ اور فرقہ وارانہ زبان پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات جمہوری اقدار کو کمزور کرتے ہیں۔ ملک معتصم خان نے کہا کہ انتخابات میں غیر جانبداری، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے اداروں کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کا جانبداری کا تاثر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خود کو سیکولر اور جمہوری اقدار کا علمبردار کہنے والی جماعتیں اندرونی اختلافات کے باعث ایک متحدہ سیاسی محاذ بنانے میں ناکام رہیں ، جس کی وجہ سے سماج میں تقسیم پیدا کرنے والی قوتوں کو مضبوط ہونے کا موقع ملا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں، حکومتوں کا احتساب کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے موثر کردار اداکریں۔
مہنگائی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے ضروری اشیا کی بڑھتی قیمتوں اور عوام پر بڑھتے مالی بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے نقل و حمل اور خوراک کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے، جس سے گھریلو اخراجات، چھوٹے کاروبار اور متوسط آمدنی والے طبقات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں قوتِ خرید میں کمی اور معاشی دباو¿ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ عالمی توانائی کے بحران سے جڑا ہوا ہے، جو مسلسل دباو¿ کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ایک متوازن حکمت عملی اپنائے، جس سے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی اور وی اے ٹی کے ذریعے ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم کیا جائے۔ انہوں نے طویل مدتی استحکام کے لیے پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل کرنے، سپلائی سسٹم کو مضبوط بنانے، لاجسٹکس کو بہتر کرنے اور ضروری اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بفر اسٹاک قائم کرنے کی بھی تجویز دی۔ انہوں نے کمزور طبقات کی امداد کرنے اور ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں ہیرا پھیری روکنے کے لیے سخت نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے بڑھتے درجہ حرارت کے سنگین اثرات ، جن میں صحت کے خطرات، روزگار کا نقصان اور کمزور طبقات جیسے مزدوروں اور غریبوں پر دباو¿ شامل ہے، کو اجاگر کیا۔ انہوں نے شدید گرمی کی بڑھتی شدت کو ماحولیاتی بگاڑ، جنگلات کی کٹائی اور بے قابو شہری توسیع سے جوڑا، جس نے قدرتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے فوری اور طویل مدتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہیٹ ایکشن پلانز کا نفاذ، پینے کے پانی اور ٹھنڈک کی سہولیات کی فراہمی، اوقات کار میں مناسب تبدیلی اور صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے منصوبوں پر نظرثانی، شہری علاقوں میں ہریالی بڑھانے، آبی ذخائر کے تحفظ اور ماحول دوست حکمت عملی اپنانے کی بھی اپیل کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais