
دہرادون، 06 مئی (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی قیادت میں ریاستی حکومت کے ذریعہ متعلقہ محکموں کو وقف املاک کے ریکارڈ کی تفصیلی چھان بین کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اس کارروائی کے دوران مدارس اور دیگر کی زمینوں کی تلاش میں بہت سے حقائق سامنے آ رہے ہیں۔
اتراکھنڈ میں، 7,288 جائیدادیں درج کی گئیں، جن میں سے 2105 اوقاف (اسلامی قانون کے تحت عطیہ کردہ غیر منقولہ جائیداد، جو وقف بورڈ کے زیر انتظام ہوتی ہیں) کا ذکر کیا گیا ہے۔ باقی 5388 جائیدادوں میں قبرستان، عید گاہیں، مساجد، مدارس، مزارات، امام باڑے ، اسکول وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے صرف 1597 منظورہو کر درج ہوئیں۔ مزید برآں، امید پورٹل پر اب تک صرف 2105 اواق جائیدادیں رجسٹر کی گئی ہیں۔ یعنی 3791 مساجد، مدارس، عیدگاہ، مزارات وغیرہ کے زمرے کی جائیدادوں اور 841 اوقاف زمرے کی جائیدادوں کے بارے میں قابضین نے معلومات امید پورٹل پر درج نہیں کرائی ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ جن جائیدادوں کا اندراج نہیں کیا گیا ہے، وہ کانگریس کے دور حکومت میں سرکاری اراضی پر قبضہ کر کے وقف میں چڑھائی گئیں۔ اب ان کی زمین کے کاغذات کہاں سے حاصل کئے جائیں؟ تجویز کے مطابق، حکومت ایسی جائیدادوں کو قبضے میں لے سکے گی۔ دھامی حکومت نے ان کے ریکارڈ کی جانچ شروع کر دی ہے۔
دستاویزات پر اٹھائے گئے سوالات
ذرائع کے مطابق، جن جائیدادوں کے ریکارڈ دستیاب نہیں ہیں، ان میں کچھ پر ماضی میں سرکاری اراضی پر قبضے کے بعد وقف اراضی کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کا الزام سامنے آتے رہے ہٰں ۔ ایسے معاملات میں زمین کے درست دستاویزات کا حصول ایک چیلنج ہے۔ موجودہ قوانین کے تحت حکومت ان جائیدادوں پر قبضہ کر سکتی ہے جن کے لیے درست دستاویزات پیش نہیں کئے جا سکیں گے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد