ترقی کے معاملے میں ناسک اب نہیں رکے گا: وزیر اعلیٰ
ناسک، 6 مئی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ مذہبی اور روحانی اہمیت کے حامل ناسک شہر کو آئندہ ‘سنگھستھ کمبھ میلہ’ ترقی کے ایک بڑے انجن میں تبدیل کر دے گا اور اب ترقی کے معاملے میں ناسک کسی بھی صورت پیچھے نہی
ترقی کے معاملے میں ناسک اب نہیں رکے گا: وزیر اعلیٰ


ناسک، 6 مئی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ مذہبی اور روحانی اہمیت کے حامل ناسک شہر کو آئندہ ‘سنگھستھ کمبھ میلہ’ ترقی کے ایک بڑے انجن میں تبدیل کر دے گا اور اب ترقی کے معاملے میں ناسک کسی بھی صورت پیچھے نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی صنعتی ترقی کو جدید سہولیات، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے ذریعے نئی رفتار ملے گی، جس سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ بدھ کے روز ہوٹل تاج میں منعقدہ ’’کمبھ ادیوگ سنگم‘‘ اور ’’ناسک انویسٹمنٹ سمٹ 2026‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ریاستی وزیر آبی وسائل گریش مہاجن، وزیر صنعت ادے سامنت، وزیر تعلیم دادا جی بھوسے، وزیر غذا و ادویات انتظامیہ نرہری جرول، وزیر ٹیکسٹائل سنجے ساوکارے، رکن پارلیمنٹ شوبھا بچن، میئر ہیمگوری اہیر اڈکے، ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر پروین گیڈم اور محکمہ صنعت کے ڈویلپمنٹ کمشنر دیپیندر کشواہا سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی موجودگی میں 300 سے زائد صنعت کاروں کے ساتھ 13 ہزار 190 کروڑ روپے کے مفاہمتی معاہدوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جن کے ذریعے تقریباً 32 ہزار افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ناسک بے پناہ ترقیاتی امکانات رکھنے والا شہر ہے اور ’’کمبھ ادیوگ سنگم‘‘ ضلع میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک انتہائی مؤثر قدم ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے حکومت ضلعی سطح پر سرمایہ کاری کانفرنسوں کا انعقاد کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک ناسک ضلع میں 31 ہزار 945 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے اور اس کے ذریعے تقریباً 66 ہزار افراد کو روزگار حاصل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 77 فیصد مفاہمتی معاہدوں پر عملی کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ الیکٹرانکس، زرعی خدمات، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل اور خدمات کے شعبوں سمیت مختلف صنعتوں میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بڑے صنعتی گروپس نے ناسک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس کے لیے مناسب زمین کی دستیابی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہندرا اینڈ مہندرا جیسی بڑی کمپنی ناسک میں سرمایہ کاری کر رہی ہے، جبکہ ریلائنس اور لارسن اینڈ ٹوبرو جیسی کمپنیوں نے بھی یہاں سرمایہ کاری کی ہے۔ کئی دیگر صنعتیں بھی اپنے کاروبار کو یہاں وسعت دینے کی خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ناسک میں 57 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آئی ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے داووس میں منعقدہ عالمی کانفرنس کے دوران ناسک ضلع کے لیے مزید 12 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مہاراشٹر میں اب صنعتوں کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں اور شمالی مہاراشٹر میں ناسک ایک نیا صنعتی مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ناسک کی ترقی رکنے والی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اہلیہ نگر، جلگاؤں، دھولیہ اور نندوربار بھی صنعتی سرمایہ کاری کے نئے مراکز بنتے جا رہے ہیں، جبکہ مراٹھواڑہ کے جالنہ اور اورنگ آباد میں بھی بڑے صنعتی منصوبے آ رہے ہیں۔ ودربھ میں بھی نئے صنعتی مراکز تیار کیے جا رہے ہیں اور ریاستی حکومت متوازن ترقی کے ماڈل پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس مقصد کے تحت جغرافیائی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ پہلے ترقی صرف ممبئی، پونے اور میٹروپولیٹن علاقوں تک محدود تھی، لیکن اب ہر ضلع کو ترقی کا مرکز بنانے کی پالیسی اپنائی گئی ہے تاکہ مقامی وسائل اور صلاحیتوں کا بہتر استعمال ہو سکے۔

دیویندر فڑنویس نے کہا کہ حکومت نے صنعت دوست پالیسی متعارف کرائی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار شروع کرنا آسان بنایا جا سکے۔ مختلف سرکاری اجازت ناموں کو ’’ایک ہی چھت‘‘ کے نیچے لانے کے لیے ’’میتری‘‘ جیسی سہولت قائم کی گئی ہے، جس کے ذریعے اب تک 3 لاکھ سے زائد درخواستوں پر کارروائی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر اب اسٹارٹ اپس کا مرکز بن چکا ہے اور ریاست میں 30 ہزار سے زائد اسٹارٹ اپس شروع کیے جا چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت سنگھستھ کمبھ میلے کے لیے 33 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہے، جو آئندہ 15 سے 20 برسوں تک صنعتوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سرمایہ کاری کے ذریعے رابطہ سڑکیں، ڈرائی پورٹ، بنیادی ڈھانچہ، رنگ روڈ اور دیگر سہولیات تیار کی جائیں گی، جن کے نتیجے میں اگلے 10 برسوں میں ناسک ضلع میں 3 لاکھ کروڑ روپے کی معیشت وجود میں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ سنگھستھ کمبھ میلہ ترقیاتی اعتبار سے ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ گوداوری ندی کی صفائی، ماحولیات کے تحفظ اور آبی صفائی کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت کمبھ میلے کو مزید سہل، جدید اور عوام دوست بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئندہ سنگھستھ کمبھ میلہ ایک مکمل ’’ڈیجیٹل کمبھ‘‘ ہوگا، جہاں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام زائرین اور عقیدت مندوں کو روحانی سکون کے ساتھ بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ یہ کمبھ میلہ مذہبی، ثقافتی اور معاشی اعتبار سے ایک یادگار تجربہ ثابت ہو۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande