
بھوپال، 06 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں تاخیر اب سڑکوں پر غصے کی شکل میں نظر آنے لگی ہے۔ بدھ کے روز بڑی تعداد میں منتخب ٹیچر امیدواروں نے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشن (ڈی پی آئی) بھوپال کے سامنے احتجاج کیا اور التوا میں پڑی تقرری کے عمل کو جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔
تقریباً 10,700 منتخب امیدواروں کی فہرست جاری ہوئے 9 ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اب تک نہ تو تقرری کے احکامات جاری ہوئے ہیں اور نہ ہی چوائس فلنگ شروع ہو سکی ہے۔ امیدواروں کے مطابق بھرتی کا عمل 2022 میں شروع ہوا، 2023 میں اہلیت کا امتحان اور اپریل 2025 میں سلیکشن ٹیسٹ منعقد ہوا۔ اس کے بعد ستمبر 2025 میں نتائج کا اعلان ہوا، لیکن آخری مرحلے پر آکر پورا عمل تھم گیا۔
امیدواروں کا کہنا ہے کہ امتحان کے انعقاد کی رول بک کے آرٹیکل 3.28 کے مطابق سلیکشن لسٹ جاری ہونے کے تین ماہ کے اندر تقرری کے احکامات جاری کرنا لازمی ہے۔ اس کے باوجود 9-8 ماہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کا الزام ہے کہ اب تک اہل اور نااہل فہرست جاری نہیں کی گئی اور نہ ہی چوائس فلنگ کرائی گئی ہے۔ نومبر 2025 سے لے کر اپریل 2026 تک کئی بار محکمہ جاتی افسران سے رابطہ کیا گیا، لیکن ہر بار صرف یقین دہانی ہی ملی۔
تقریباً 10,700 منتخب امیدوار اس تاخیر سے متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیا تعلیمی سیشن اپریل 2026 سے شروع ہو چکا ہے، اس کے باوجود تقرری نہ ملنا ان کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک طرف جہاں ہزاروں نوجوان تقرری کا انتظار کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ریاست کے اسکولوں میں اساتذہ کی بھاری کمی بنی ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 1,895 اسکول ایسے ہیں جہاں ایک بھی استاد نہیں ہے، جبکہ 29 ہزار سے زیادہ اسکولوں میں تقریباً ایک لاکھ اسامیاں خالی ہیں۔
چھتر پور کے وویک تیواری نے بتایا کہ ہزاروں امیدوار پچھلے کئی برسوں سے تقرری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھرتی میں تاخیر کی وجہ سے کئی امیدواروں کی خاندانی اور مالی حالت متاثر ہوئی ہے۔ کئی امیدوار اب 40 سال کی عمر پار کر چکے ہیں، جس سے ان کے سامنے مستقبل کو لے کر سنگین تشویش کھڑی ہو گئی ہے۔
دھیریندر چورسیا نے بتایا کہ سال 2022 میں بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا۔ امیدواروں کو کئی بار تحریری اور زبانی بھروسہ دیا گیا کہ جلد اہل و نااہل کی فہرست جاری ہوگی، لیکن مہینے بیت جانے کے بعد بھی پورٹل پر کوئی اپ ڈیٹ نہیں ہے۔ امیدواروں نے صاف انتباہ دیا ہے کہ اگر جلد تقرری کے احکامات جاری نہیں کیے گئے تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور حکومت کو جلد ٹھوس فیصلہ لینا ہو گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن