
حیدرآباد ، 5 مئی (ہ س)۔ مرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمارنے تلنگانہ حکومت پرسخت تنقید کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ ریونت ریڈی پرالزام لگایا کہ وہ سی بی آئی جانچ کے نام پرڈرامہ کررہے ہیں تاکہ بی جے پی کی حالیہ انتخابی کامیابیوں اوروزیرِ اعظم نریندرمودی کے آئندہ دورے سے عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ کریم نگرضلع کے قاضی پورمیں دھان خریداری مرکز کا دورہ کرنے کے بعد میڈ یا سے بات کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ ریاست بھرکے کسان شدید گرمی میں کئی کئی دن انتظارکرنے پرمجبورہیں تاکہ اپنی فصل فروخت کرسکیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت خریداری مراکزپربنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ مرکزی وزیرنے دعویٰ کیا کہ کسانوں کا استحصال ٹیراورشرنکیج کے نام پرکٹوتیوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس سے فی بوری کئی کلوگرام کا نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بیجوں کےلئے خریداری ٹوکن جاری کرنے کے لیے بھی کمیشن مانگ رہے ہیں، جس کے باعث ہر کسان کو اوسطاً 20 ہزارروپے سے زیادہ کا مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ خریداری کے عمل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ بڑی مقدار میں فصل آنے کے باوجود دھان کی خریداری میں تاخیر کیوں ہورہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگی بنیادوں پر خریداری تیز کی جائے اورکم ازکم امدادی قیمت(ایم ایس پی) بغیرکسی غیرضروری کٹوتی کے یقینی بنائی جائے۔
بنڈی سنجے نے کانگریس حکومت پرطلبہ سمیت مختلف طبقات کو نظرانداز کرنے کا بھی الزام لگایا، خاص طور پر ان طلبہ کا ذکر کیا جو فیس ری ایمبرسمنٹ کے منتظرہیں۔ انہوں نے فنڈز کے غلط استعمال کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے بجلی خریداری میں بے ضابطگیوں کی رپورٹ پرکارروائی میں تاخیر پر بھی سوال اٹھائے اوروزیرِاعلیٰ کو چیلنج کیا کہ وہ سی بی آئی جانچ کے بارے میں اپنامؤقف واضح کریں، جسے انہوں نے توجہ ہٹانے کی چال قراردیا۔ انہوں نے کسانوں کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل ریاستی حکومت کے سامنے اٹھائے جائیں گے اور فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق