
کولکاتہ، 4 مئی (ہ س)۔
مغربی بنگال اسمبلی کی 293 نشستوں کے لیے ووٹوں کی گنتی آج صبح 8 بجے شروع ہوئی۔ پہلے پوسٹل بیلٹ کی گنتی کی جا رہی ہے، اس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) سے ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ ریاست میں کون سی پارٹی حکومت بنائے گی اس بات کا تعین کرنے کے لیے پورا ملک انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ریاست بھر میں کل 77 مراکز پر گنتی جاری ہے۔
ووٹوں کی گنتی کے لیے ریاست بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کلکتہ سمیت متعدد گنتی مراکز کے باہر دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے اور مرکزی فورسز کے ساتھ ریاستی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تین درجاتی حفاظتی نظام کا دعویٰ کیا ہے، ریاستی پولیس گنتی مراکز کے آس پاس کے علاقوں کو محفوظ بنانے کی ذمہ دار ہے، جب کہ ریپڈ ایکشن فورس مراکز کے ارد گرد سیکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔ سینٹرل نیم فوجی دستے گنتی مراکز کے اندر سیکورٹی کی ذمہ دار ہوں گی۔
کئی مقامات پر سیاسی جماعتوں کے امیدوار اور ان کے ایجنٹ صبح سویرے ہی گنتی مراکز پر پہنچنا شروع ہو گئے۔ خاص طور پر بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر توجہ مرکوز ہے، جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور بی جے پی لیڈر شوبھیندوادھیکاری کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ ترنمول کانگریس کے حامیوں کا ہجوم پیر کی صبح سے ہی اس اسمبلی حلقہ کے ایکسائیڈ موڈ پر جمع ہونا شروع ہو گیا۔
دریں اثنا، ترنمول کانگریس نے شمالی 24 پرگنہ کے سوروپ نگر اور بونگاو¿ں میں گنتی مراکز میں امیدواروں اور ایجنٹوں کے داخلے میں رکاوٹ کا الزام لگایا ہے۔ مختلف اضلاع میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان گنتی جاری ہے۔ دریں اثنا، کھڑگپور سے بی جے پی امیدوار، دلیپ گھوش نے ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی جیت کا یقین ظاہر کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 294 رکنی اسمبلی کے لیے دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ تاہم جنوبی 24 پرگنہ ضلع میںالیکشن کمیشن نے انتخابی بے ضابطگیوں اور جمہوری عمل کی خلاف ورزی کے الزامات کے باعث فالتا کے حلقے میں الیکشن منسوخ کر دیا ہے۔ دوبارہ پولنگ 21 مئی کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 24 مئی کو ہوگی۔ فالتا کے علاوہ تمام سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ