
کاٹھمانڈو، 04 مئی (ہ س)۔
نیپال نے ایک بار پھر زور دے کر کہا ہے کہ اس کے آئین میں تسلیم شدہ نقشے کے مطابق لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالاپانی اس کے علاقے کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ حکومت نے بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
پیر کو کابینہ کی میٹنگ کے بعد، حکومت کے ترجمان سسیمت پوکھرل نے کہا کہ نیپال بھارت کے ساتھ تمام مسائل بشمول سرحدی معاملات کو صرف سفارتی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ نیپال کا موقف پیش کرتے ہوئے، حکومتی ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نیپالی آئین کے ذریعہ تسلیم شدہ نقشہ لیمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالاپانی کو نیپال کی سرزمین کے اٹوٹ حصوں کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ اس حوالے سے حکومت پہلے ہی کھلے عام اپنا واضح موقف بیان کر چکی ہے۔
اس معاملہ میں نیپال نے اپنا اعتراض اس وقت درج کیا جب ہندوستان اور چین نے لیپولیکھ سے گزرتے ہوئے کیلاش مانسروور کا راستہ کھول دیا، جس کے بارے میں نیپال اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ آج منعقدہ وزراءکی کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے، ترجمان پوکھرل نے نوٹ کیا کہ نیپال کے وزیر برائے امور خارجہ اس معاملے کے بارے میں پہلے ہی ایک سرکاری سفارتی نوٹ جاری کر چکے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے ذکر کیا کہ حکومت ہند نے بھی اس مسئلے کو باہمی تعاون کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ متنازعہ خطہ درحقیقت نیپالی علاقہ ہے، یہ ایک ایسا موقف ہے جس پر حکومت کا عزم واضح ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور بات چیت کے ذریعے ہی اختلافی مسائل کو حل کرنا ممکن ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی