
سدھارتھ نگر، 3 مئی (ہ س)۔ اتر پردیش کے سدھارتھ نگر ضلع ہیڈکوارٹر میں کانشی رام آواس کے قریب پانی کی ٹنکی پر پھنسے دونوں بچوں کو فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت بچالیا۔سدھارتھ نگر کے ضلع مجسٹریٹ شیوشنرپا جی این نے یہ معلومات دی۔
انہوں نے کہا کہ ہفتہ کو وزیر اعلیٰ کے دفتر اور اتر پردیش کے ریلیف کمشنر ڈاکٹر ہرشی کیش بھاسکر یشود کے ساتھ بات چیت کی گئی۔ گورکھپور سے آرمی کا ہیلی کاپٹر منگوایا گیا۔ ہیلی کاپٹر اتوار کی صبح 5:20 پر پہنچا۔ پندرہ منٹ تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن میں دونوں بچوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا۔ ریسکیو کے بعد ایئر فورس کے اہلکار دونوں لڑکوں کو گورکھپور لے گئے، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور دیگر افسران نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ انتظامیہ کی بروقت کارروائی اور فوج کے ساتھ تال میل کے باعث یہ مشکل ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا جس سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔
قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کو پانچ بچے ریل(ویڈیو) بنانے کے لیے ضلع ہیڈکوارٹر کے کانشی رام آواس کے پاس بنائی گئی پانی کی ٹنکی کی سیڑھی پر چڑھ گئے تھے۔ ان میں سے دو چوٹی پر پہنچ گئے لیکن جب ان میں سے تین چڑھ رہے تھے تو سیڑھی ٹوٹ کر نیچے گر گئی۔ جس سے تینوں بچے بھی نیچے گر گئے۔ اس واقعہ میں 14 سالہ سدھارتھ کی موت ہوگئی۔ جبکہ 13 سالہ گولو اور 11 سالہ شنی میڈیکل کالج میں زیر علاج ہیں۔ ان میں سے ٹنکی کے اوپر پہنچ چکے دو بچے سیڑھی ٹوٹ جانے کی وجہ سے ہفتے کی شام سے ٹینک پر پھنسے ہوئے تھے۔ دونوں کو آج ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچالیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد