
علی گڑھ, 03 مئی (ہ س)۔
علی گڑھ تھانہ دہلی گیٹ کے علاقے کھیر روڈ میں گذشتہ رات پیش آنے والے حملے کے بعد معاملہ مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ آج جمعیت علماء ضلع علی گڑھ کا ایک وفد زخمی نوجوانوں آعظم اور وجاہت کے گھر پہنچا اور ان کی عیادت کی۔ اہل خانہ کے مطابق دونوں نوجوان اس وقت گھر پر زیر علاج ہیں۔
موصولہ معلومات کے مطابق آعظم اور وجاہت اپنی دکان کے باہر کھڑے تھے کہ اسی دوران ملزم منیش اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ الزام ہے کہ وجاہت کو دیکھ کر اس نے قابل اعتراض اور اشتعال انگیز باتیں شروع کر دیں۔ منع کرنے پر جھگڑا بڑھ گیا اور ملزم نے مارپیٹ شروع کر دی۔ بیچ بچاؤ کے دوران آعظم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد دونوں نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں پہلے ضلع اسپتال لے جایا گیا، بعد ازاں حالت تشویشناک ہونے پر میڈیکل کالج ریفر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے میں مرکزی ملزم منیش سمیت پانچ نامزد اور تین نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم تاحال کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔
جمعیت علماء کے وفد میں علی گڑھ ضلع صدر سید قاری عبداللہ، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالمتعالی، قاری عبدالمجید چودھری اور مولانا یوسف ندوی شامل تھے۔ وفد نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
علی گڑھ ضلع صدر سید قاری عبداللہ نے کہا کہ “اس طرح کے واقعات معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ اگر ملزمان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو قانون کا خوف ختم ہو جائے گا اور شرپسند عناصر کے حوصلے بڑھیں گے۔”
جمعیت علماء اتر پردیش کے سیکرٹری قاری عبدالمجید چودھری نے کہا کہ “ایسے معاملات کو معمولی سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔ بروقت کارروائی نہ ہونے سے نفرت اور بدامنی میں اضافہ ہوگا، جبکہ سخت قانونی اقدام سے معاشرے میں امن و بھائی چارہ مضبوط ہوگا۔”
ضلع علی گڑھ جنرل سیکرٹری مولانا عبدالمتعالی نے کہا کہ “یہ واقعات سماجی ہم آہنگی کے لیے تشویشناک ہیں۔ شفاف اور فوری کارروائی ہی انصاف اور امن کو یقینی بنا سکتی ہے۔”وفد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ملزمان کو جلد گرفتار کر کے شفاف تحقیقات کے ساتھ سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ