(اپڈیٹ) سریندا وادن کے مشہور فن کار پدم شری منگلا کانتی رائے کا انتقال
جلپائی گوڑی، 29 مئی (ہ س) ۔شمالی بنگال کی تقریباً 500 سال پرانی لوک ثقافت کی ایک ممتاز علمبردار اور معروف سریندوادن کے فن کار منگلا کانتی رائے کا جمعرات کی دیر رات انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 104 سال تھی۔ انہوں نے میناگوڑی کے امگوڑی گرام پنچایت کے تحت
سریندا


جلپائی گوڑی، 29 مئی (ہ س) ۔شمالی بنگال کی تقریباً 500 سال پرانی لوک ثقافت کی ایک ممتاز علمبردار اور معروف سریندوادن کے فن کار منگلا کانتی رائے کا جمعرات کی دیر رات انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 104 سال تھی۔ انہوں نے میناگوڑی کے امگوڑی گرام پنچایت کے تحت دھاولاگوڑی میں اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔

ان کے اہل خانہ کے مطابق منگلا کانتی رائے طویل عرصے سے عمر سے متعلق مختلف بیماریوں اور گلے کے مسائل میں مبتلا تھے۔ ان کی موت سے شمالی بنگال کے لوک ثقافتیحلقہ میں غم کی لہردوڑگئیہے۔ لوک فنکاروں اور ثقافت سے محبت کرنے والوں نے اسے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔

منگلا کانتی رائے نے اپنی پوری زندگی خطرے سے دوچارسریندا بجانے کے لوک فن کو بچانے اور اسے نئی نسلوں تک پہنچانے کے لیے وقف کر دی۔ ان کی انتھک کوششوں نے ایک بار پھر اس روایتی آلے کو ثقافتی پلیٹ فارمز اور لوک تقریبات میں پہچان حاصل کرنے کے قابل بنایا ۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں، حکومت مغربی بنگال نے انہیں 2017 میں بنگرتنا ایوارڈ سے نوازا۔ اس کے بعد، 2023 میں، حکومت ہند نے انہیں ملک کے باوقار شہری اعزاز، پدم شری سے نوازا۔

اہل خانہ کے مطابق انہیں تقریباً ایک ماہ قبل ان کی طبیعت خراب ہونے پر جلپائی گوڑی کے سپر اسپیشلٹی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ تاہم انہیں گھر واپس لایا گیا کیونکہ وہ اسپتال میں نہیں رہنا چاہتے تھے۔ پچھلے کچھ دنوں سے ان کی حالت مزید بگڑ گئی تھی۔

جمعہ کی صبح جیسے ہی ان کی موت کی خبر پھیلی، دھاوالاگوڑی گاو¿ں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں کی بڑی تعداد ان کے گھر پر ان کے آخری دیدار کے لیے پہنچی۔ اہل خانہ نے بتایا کہ ان کی آخری خواہشات کے مطابق ان کی آخری رسومات ان کے گھر کے قریب نجی زمین پر ادا کی جائیں گی۔

منگلا کانتی رائے کے انتقال سے شمالی بنگال کی لوک روایت نے اپنا ایک قیمتی ستارہ کھو دیا ہے، جس کا متبادل آسان نہیں ہوگا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande