
ممبئی ، 29 مئی (ہ س)۔ بھارتی محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ رواں سال مانسون کے موسم میں ایل نینو کے اثرات محسوس کیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں ملک میں اوسط بارش معمول سے کم رہ سکتی ہے۔ جمعہ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں محکمہ موسمیات نے مانسون سے متعلق اپنا نظرثانی شدہ اندازہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ملک میں معمول کے تقریباً 90 فیصد بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل اپریل میں ملک بھر میں اوسط کے 92 فیصد بارش کا اندازہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم اب اس میں کمی کا انتباہ دیا گیا ہے۔سینئر موسمیاتی ماہر کے ایس ہوسالیکر نے مہاراشٹر کی صورتحال کے حوالے سے اہم مشاہدات پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال مانسون پر ایل نینو کا سایہ رہے گا۔ ان کے مطابق جون کے دوران اس کے اثرات زیادہ شدت سے محسوس نہیں ہوں گے، تاہم جولائی اور اگست میں اس کے اثرات عام طور پر نمایاں ہو سکتے ہیں، جبکہ ستمبر میں اس کا اثر سب سے زیادہ ہوگا۔ اس کے باعث مانسون کے بہاؤ پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے اور مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں بارش کی مقدار کم رہ سکتی ہے۔ہوسالیکر کے مطابق مراٹھواڑہ، ودربھ اور وسطی مہاراشٹر میں بارش کی کمی زیادہ محسوس کی جا سکتی ہے۔ اگر چار ماہ کے مانسون سیزن میں بارش معمول سے کم رہی تو اس کے اثرات زراعت، پینے کے پانی، توانائی اور صحت سمیت مختلف شعبوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس کے منفی اثرات آئندہ ایک سال تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔دریں اثنا، موسمیاتی ماہر مَیوریش پربھونے نے بھی رواں سال کے بارش کے امکانات کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اوسط سے کم بارش ہونے کا امکان تقریباً 60 فیصد ہے۔ محکمہ موسمیات کے معیار کے مطابق 90 فیصد بارش کو بھی معمول سے کم تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مہاراشٹر سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کی مقدار اوسط سے کم رہنے کا قوی امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ جون میں ایل نینو کا اثر محدود رہے گا، لیکن جولائی، اگست اور ستمبر میں اس کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق مانسون عام طور پر کیرالہ میں داخل ہونے کے بعد تقریباً 40 سے 45 دن میں راجستھان تک پہنچتا ہے، تاہم اگر شمالی علاقوں کی جانب اس کی پیش رفت سست رہی تو بعض علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں بھی محسوس کی جا سکتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے