
کولکاتا، 29 مئی (ہ س) ۔مغربی بنگال میں یکم اگست سے مردم شماری کا کام شروع ہوگا۔ وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے جمعہ کو ریاستی سکریٹریٹ، نبنا میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا عمل اگست 2026 میں شروع ہو کر فروری 2027 تک جاری رہے گا۔
وزیر اعلیٰ نے ریاست کے تمام شہریوں سے مردم شماری کے کام میں فعال تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ملک اور ریاست دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کی آبادیاتی صورتحال خاص اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ریاست بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً 600 کلومیٹر طویل سرحد رکھتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرحد کے کچھ حصوں میں باڑ نہ لگنے اور سابقہ حکومت کی جانب سے بارڈر سیکورٹی فورس کو زمین فراہم نہ کرنے کی وجہ سے ریاست کی آبادی میں تبدیلی آئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پہلی مرتبہ مردم شماری ڈیجیٹل طریقے سے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں یہ عمل ملک بھر کی کئی ریاستوں میں شروع ہو چکا ہے، مغربی بنگال میں نسبتاً تاخیر سے شروع ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت مردم شماری کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ تمام شہری صحیح اور درست معلومات دے کر انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، تاکہ مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو سکے۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے مردم شماری کے عمل میں تاخیر کا ذمہ دار سابقہ حکومت اور سابق چیف سیکرٹری کو ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کابینہ کا معاملہ نہیں بلکہ انتظامی فیصلہ ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق سابق چیف سیکرٹری سیاسی اتفاق رائے کا انتظار کرتے رہے جس کے باعث مردم شماری کا کام وقت پر شروع نہیں ہو سکا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی