
نئی دہلی، 29 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ کو 30 مئی سے شروع ہونے والے ایشین گیمز کے ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ وہ دہلی ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت نہیں کرے گی۔
اگرچہ سپریم کورٹ نے ونیش پھوگاٹ کو 30 مئی سے شروع ہونے والے ایشین گیمز کے ٹرائلز کے لیے حاضر ہونے کی اجازت دی ہے، لیکن اس نے اس بات پر اعتراض کیا کہ انہوں ڈوپنگ ٹیسٹ کومس کیا اور ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن کو اس کے بارے میں اندھیرے میں رکھا۔ عدالت نے کہا کہ ونیش پھوگاٹ کوئی عام ایتھلیٹ نہیں ہے لیکن 14 دسمبر 2024 کو آپ نے یہ کہہ کر چھٹی لی تھی کہ آپ اگست 2025 میں دوبارہ حصہ لینا شروع کر دیں گے۔ 3 جون 2025 کو آپ نے بتایا کہ آپ کی چھٹی ختم ہو گئی ہے اور آپ کام شروع کر دیں گے۔ اس کے بعد جولائی 2025 میں آپ ماں بنیں۔
قابل ذکر ہے کہ 22 مئی کو دہلی ہائی کورٹ نے ونیش پھوگاٹ کو ایشین گیمز کے ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کا فیصلہ انتقامی تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ونیش پھوگاٹ اپنی زچگی کی چھٹی کی وجہ سے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی سلیکشن پالیسی کے معیار پر پورا نہیں اتر سکی۔ عدالت نے کہا کہ زچگی فوگاٹ جیسی خاتون کو خارج کرنے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔ ہائی کورٹ نے ونیش پھوگاٹ کو وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کرنے پر ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس انتقامی جذبے سے محرک تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن نے شوکاز نوٹس میں جو زبان استعمال کی ہے وہ نامناسب تھی اور اس سے بچا جا سکتا تھا۔
دراصل ونیش پھوگاٹ نے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے فیصلے کو ڈویژن بنچ میں چیلنج کیا تھا۔ 18 مئی کو سنگل بنچ نے ونیش پھوگاٹ کو کوئی راحت دینے سے انکار کر دیا۔ ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن نے ونیش پھوگاٹ کو سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا نے کہا کہ یہ سلیکشن ٹرائلز صرف 2025 سینئر نیشنل چیمپئن شپ، 2026 فیڈریشن کپ اور انڈر 20 نیشنل چیمپئن شپ کے فاتحین کے لیے ہیں۔ پھوگاٹ نے ان تینوں مقابلوں میں سے کوئی بھی نہیں جیتا تھا۔ فوگاٹ نے 2024 کے اولمپکس کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ بعد میں وہ دسمبر 2025 میں ریسلنگ میں واپس آگئیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی