
دنتے واڑہ، 29 مئی (ہ س)۔ چھتیس گڑھ میں پردھان منتری ماترو وندن یوجنا (پی ایم ایم وی آئی) کے تحت تقریباً 60 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں 1,400 سے زائد فرضی فائدہ اٹھانے والوں کی رجسٹریشن کا انکشاف ہوا، جس سے انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔ محکمانہ ملازمین کا کردار بھی زیر تفتیش ہے۔ دنتے واڑہ کے کلکٹر دیویش دھرو نے کہا کہ پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اسکیم پورٹل پر خواتین و اطفال کی ترقی کے محکمے سے وابستہ آئی ڈی اور پاس ورڈ کا غلط استعمال کرتے ہوئے جعلی اندراجات کی گئیں۔ یہ الزام ہے کہ تقریباً 60 لاکھ روپئے مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے اور فرضی فائدہ اٹھانے والوں کے ناموں پر نکالے گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں کئی علاقوں میں 1400 سے زیادہ فرضی استفادہ کنندگان کے اندراج کا انکشاف ہوا ہے جن میں برسور، بچیلی، گیدم، کٹی کلیان اور کواکونڈا شامل ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ ڈپارٹمنٹل پورٹل پر فرضی بینک اکاونٹس جوڑ کر کافی عرصے سے رقم نکالی جا رہی تھی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ نے متعلقہ آئی ڈی بلاک کر دیے اور لین دین، دستاویزات اور بینک اکاو¿نٹس کی چھان بین شروع کر دی۔ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ محکمہ کی آئی ڈی اور پاس ورڈ کی معلومات باہر تک کیسے پہنچی۔ محکمہ کے کچھ ملازمین اور افسران بھی مبینہ طور پر زیر تفتیش ہیں۔ انتظامیہ کو کئی گاو¿ں اور آنگن واڑی مراکز میں مشکوک رجسٹریشن اور ادائیگیوں کی اطلاع ملی ہے۔
2025 اور 2026 کے دوران اسکیم پر عمل درآمد کے حوالے سے مسلسل شکایات موصول ہوئیں لیکن بروقت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے بے قاعدگیوں میں اضافہ ہوا۔ پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی صحت اور غذائیت کے لیے لاگو کی جاتی ہے۔ نتیجتاً، مستحقین تک فنڈز کی عدم فراہمی نے حکومت کے مانیٹرنگ سسٹم اور محکمانہ کام کاج پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ایف آئی آر درج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں دنتے واڑہ کے کلکٹر دیویش دھرو نے جمعہ کو کہا کہ پورے معاملے کی جانچ جاری ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی