
بھوپال، 29 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں اس سال گندم کی خریداری میں تمام اہداف حاصل کرتے ہوئے ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ ریاست میں کسانوں سے اب تک ریکارڈ 1.4 کروڑ میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے۔ ریاستی حکومت نے گندم پیدا کرنے والے کسانوں کو 2585 روپے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور 40 روپے فی کوئنٹل بونس کا فائدہ دیا ہے۔ کسانوں کو گندم کے لیے 2625 روپے فی کوئنٹل کے حساب سے ادائیگی کی گئی۔ اب تک کسانوں کو گندم کی خریداری کے عوض 24 ہزار کروڑ روپے کی رقم دی جا چکی ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے جمعہ کے روز اجین میں ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے یہ معلومات دی۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری کے لیے کسانوں کی تعداد کے معاملے میں مدھیہ پردیش ملک کی سرکردہ ریاست بن چکا ہے۔ ریاست میں اس سال گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والی ریاستوں میں پنجاب کے بعد مدھیہ پردیش دوسرے نمبر پر ہے۔ مدھیہ پردیش واحد ریاست ہے جس نے سب سے طویل عرصے تک گندم کی خریداری کا نظام نافذ رکھا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں سے گندم پہلے خریدی گئی۔ یہ نظام ریاست میں پہلی بار نافذ کیا گیا ہے۔ چھوٹے کسانوں سے اب تک تقریباً 32.72 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے۔ اس کے بعد بڑے کسانوں کو اپنی فصل بیچنے کا موقع ملا۔ اب تک تقریباً پونے 14 لاکھ کسانوں سے امدادی قیمت پر گندم خریدی جا چکی ہے۔ سرکاری خریداری کے لیے رجسٹریشن کرانے والے تمام کسان بھائی بہنوں کی گندم گوداموں تک پہنچ چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کی صورتحال اور دنیا میں پیدا ہونے والے نامساعد حالات کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ریاستی حکومت نے کسانوں کے مفادات کو سب سے مقدم رکھا ہے۔ اس مشکل دور میں بھی ریکارڈ گندم خریدی گئی ہے۔ ریاستی حکومت کسانوں کے لیے کئی عوامی فلاحی فیصلے لے رہی ہے۔ ان داتا (کسان) بھائی بہنوں کی بہتری کے لیے ریاستی حکومت نے یہ پورا سال کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کیا ہے۔ ہماری یہ وابستگی ہے کہ ریاست کا ہر کسان خوشحال ہو، اور مویشی پروری، دودھ کی پیداوار، فصل کی پیداوار اور فوڈ پروسیسنگ سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن