
بھوپال، 29 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے رتلام شہر میں گزشتہ روز ملے گائے کے کٹے ہوئے سر کے معاملے میں ہندو تنظیموں کے احتجاج کے بعد، پولیس نے دیر رات تین لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ ساتھ ہی کٹے ہوئے سر اور گائے کے باقیات کو بھی جانچ کے لیے ساگر لیب بھیج دیا گیا ہے۔
رتلام کے راجیو گاندھی سیوک سینٹر احاطے میں جمعرات کو گائے کا کٹا ہوا سر ملنے کے بعد شہر میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ ہندو تنظیموں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا۔ بڑی تعداد میں بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور ہندو جاگرن منچ کے عہدیداروں و کارکنوں نے گائے کے کٹے ہوئے سر کو لوکیندر ٹاکیز چوراہے پر رکھ کر چکا جام کر دیا تھا۔ دوپہر ایک بجے شروع ہونے والا یہ احتجاج شام قریب 6 بجے ختم ہوا تھا۔
ہندو تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ سیوک سینٹر کے جس علاقے میں گائے کو کاٹا گیا ہے، وہاں لکڑیوں پر گوشت لٹکا ہوا تھا اور کچھ پکانے کے لیے ہانڈی میں رکھا ہوا تھا۔ پاس ہی گائے کا کٹا ہوا سر تھا۔ چونکہ یہ علاقہ میونسپل کارپوریشن سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ان کے افسران کی ذمہ داری بنتی ہے۔ جمعرات کو سات دنوں میں جانچ کر کے کارروائی کرنے کی یقین دہانی کے بعد ہندو تنظیموں نے چکا جام ختم کیا۔
اس کے بعد دیر رات بجرنگ دل کے کُندن گولی نے کارکنوں کے ساتھ اسٹیشن روڈ تھانے میں رپورٹ درج کرائی۔ ہندو تنظیم کے عہدیداروں نے رپورٹ میں بتایا کہ گائے کا سر کاٹے جانے کی اطلاع پر ہم ساتھیوں کے ساتھ سیوک سینٹر میں واقع پانی کی ٹنکی کے پاس پہنچے۔ ساٹھیا برادری کی غیر قانونی جھونپڑیوں کے پاس گئو ماتا کا کٹا ہوا سر ملا۔ جھونپڑی میں دیکھا تو ایک شخص اور دو خواتین چاقو سے گوشت کے ٹکڑے کر رہے تھے۔ جھونپڑی میں بانس کی لکڑیوں پر گوشت کے کچھ ٹکڑے لٹکا رکھے تھے اور پکانے کے لیے گوشت ہانڈی میں رکھا ہوا تھا۔
اسٹیشن روڈ تھانہ انچارج سی ایس پی اجے ساروان نے جمعہ کے روز بتایا کہ پولیس نے ہندو تنظیموں کی رپورٹ پر معاملے میں جھونپڑی میں رہنے والے موہن (70) ولد رام ساٹھیا، ان کی بیوی کاپو بائی اور ریشم بائی زوجہ بچہ ساٹھیا کے خلاف گئو ودھ پرتیشدھ ادھینیم (گؤ کشی ممنوعہ ایکٹ) کی دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے اور تینوں کو گرفتار کر کے معاملے کو جانچ میں لے لیا ہے۔ جانچ میں اگر کوئی اور بھی سامنے آتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن