
114 کلومیٹر طویل پروجیکٹ سے ملے گی جام سے راحت، ترقی کو نئی بنیاد ملے گی
بھوپال، 29 مئی (ہ س)۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کی جانب سے مدھیہ پردیش میں تیار کیا جا رہا جبل پور آوٹر رنگ روڈ پروجیکٹ مہاکوشل خطے کی ترقی کا نیا باب لکھنے جا رہا ہے۔ ریاست میں سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت میں یہ ایک اہم پروجیکٹ ہے۔ تقریباً 3540 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو رہا یہ 114 کلومیٹر طویل پرجوش پروجیکٹ جبل پور اور آس پاس کے علاقوں میں کنیکٹوٹی، تجارت، سیاحت اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار فراہم کرے گا۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی) راکیش سنگھ نے جمعہ کے روز معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ جبل پور خطے کی ترقی کو نئی سمت دینے والا یہ پروجیکٹ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباو کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تجارت، سیاحت، زراعت اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی مضبوطی فراہم کرے گا۔ فور لین والے اس جدید ترین گرین فیلڈ کوریڈور کی تعمیر خاص طور پر شہر کے باہر سے آنے جانے والے بھاری اور طویل فاصلے کے ٹریفک کو آسان راستہ فراہم کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد جبل پور شہر میں ٹریفک کا دباو کم ہو گا اور اتر پردیش، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر کی طرف جانے والی گاڑیوں کو شہر کے اندر داخل ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
وزیر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک بھر میں تیار ہو رہے جدید بنیادی ڈھانچے کے نیٹ ورک نے ہندوستان کے ترقیاتی سفر کو نئی رفتار دی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی رہنمائی میں، وزیر اعظم مودی کے وژن کے مطابق نیشنل ہائی ویز، ایکسپریس ویز، اقتصادی کوریڈورز اور ملٹی ماڈل کنیکٹوٹی پروجیکٹوں کا تیزی سے اوسط بڑھایا جا رہا ہے، جس سے ملک کی معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی توانائی مل رہی ہے۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں جبل پور میں تیزی سے ہوئے شہری پھیلاو، صنعتی سرگرمیوں میں اضافے اور مسافر و مال بردار گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے ٹریفک کا دباو مسلسل بڑھا ہے۔ شہر کی اہم سڑکوں پر جام، طویل سفری وقت اور ایندھن کا اضافی استعمال عام مسئلہ بن گیا تھا۔ آوٹر رنگ روڈ پروجیکٹ ان چیلنجوں کا طویل مدتی حل پیش کرتا ہے۔ اس کے آپریشنل ہونے سے طویل فاصلے کی گاڑیوں کی آمد و رفت شہر کے باہر سے ہو گی، جس سے شہری سڑکوں پر دباو کم ہو گا اور عام شہریوں کو زیادہ آسان اور محفوظ ٹریفک نظام دستیاب ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ پروجیکٹ کے موثر نفاذ کے لیے اسے 5 الگ الگ پیکیجز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں بریلا سے مانیگاوں، مانیگاوں سے این ایچ-45، این ایچ-45 سے کشنیر، کشنیر سے امجھر اور امجھر سے بریلا تک کے حصے شامل ہیں۔ تمام پیکیجز مل کر جبل پور کے چاروں طرف ایک مضبوط بیرونی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک تیار کریں گے۔ ان راستوں کے تیار ہونے سے جبل پور ہوائی اڈے سمیت خطے کے اہم قصبوں اور دیہی علاقوں کو بہتر سڑک رابطہ حاصل ہو گا۔ پروجیکٹ کے مختلف حصے اس سال اور اگلے سال مرحلہ وار طریقے سے ٹریفک کے لیے کھولے جائیں گے۔
پروجیکٹ کا براہِ راست فائدہ کسانوں اور دیہی معیشت کو ملے گا۔ فی الحال بریلا، شاہ پورہ، پاٹن، سیہورا اور آس پاس کے علاقوں کے کسانوں کو اپنی فصل منڈیوں تک پہنچانے میں ٹریفک جام اور ٹرانسپورٹ سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آوٹر رنگ روڈ بننے کے بعد زرعی مصنوعات کی نقل و حمل تیز ہو گی، جس سے وقت کی بچت ہو گی اور کسانوں کو بازار کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ کی لاگت کم ہونے سے ان کی آمدنی پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ مقامی کسانوں کا ماننا ہے کہ پروجیکٹ کے کچھ ابتدائی حصوں کے شروع ہونے سے ہی سفر میں ہونے والی تاخیر میں کمی محسوس ہونے لگی ہے اور مکمل پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد یہ فائدہ مزید واضح طور پر دکھائی دے گا۔
جبل پور وسطی ہندوستان کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔ آوٹر رنگ روڈ بننے کے بعد مال بردار گاڑیوں کو شہر کے اندر داخل نہیں ہونا پڑے گا، جس سے ٹرانسپورٹ کی لاگت اور وقت دونوں میں کمی آئے گی۔ ایندھن کی بچت ہو گی اور لاجی سٹکس نیٹ ورک زیادہ کارآمد بن سکے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پروجیکٹ مستقبل میں جبل پور کو عالمی ایوی ایشن ہب کی طرح وسطی ہندوستان کے ایک بڑے لاجی سٹکس ہب کے طور پر قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
جبل پور کی شناخت صرف صنعتی اور انتظامی شہر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک اہم سیاحتی مرکز کے طور پر بھی ہے۔ بھیڑا گھاٹ کی سنگِ مرمر کی وادیاں، دھواں دھار آبشار، گواری گھاٹ، نرمدا کا ساحل اور قریبی کانہا نیشنل پارک ملک و بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کو راغب کرتے ہیں۔ نئی رنگ روڈ ان سیاحتی مقامات تک رسائی کو زیادہ تیز اور آسان بنائے گی۔ ساتھ ہی امرکنٹک جیسے اہم مذہبی مقامات تک کا سفر بھی پہلے کے مقابلے زیادہ سہل ہو گا۔ اس سے خطے میں سیاحتی سرگرمیوں اور مقامی روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا۔
پروجیکٹ کا سب سے پرکشش اور اہم حصہ نرمدا ندی پر تعمیر کیا جا رہا تقریباً 750 میٹر طویل ایکسٹرا ڈوزڈ برج (پل) ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے تیار کیا جا رہا یہ پل نہ صرف ٹرانسپورٹ کی سہولت کو بہتر بنائے گا بلکہ مستقبل میں خطے کی ایک منفرد شناخت کے طور پر بھی قائم ہو گا۔ مدھیہ پردیش کی لائف لائن مانی جانے والی نرمدا ندی پر تعمیر یہ پل جدید ترقی اور ثقافتی ورثے کے تال میل کی ایک بہترین مثال ہو گا۔
اس پرجوش پروجیکٹ کے تحت 14 بڑے پل، 37 چھوٹے پل، 4 ریلوے اوور برج، 3 فلائی اوور، 12 وہیکل انڈر پاس، 23 ہلکی گاڑیوں کے انڈر پاس، 2 ایلیویٹڈ اسٹرکچر، 3 اوور پاس اور تقریباً 332 پلیاوں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچہ نہ صرف ٹریفک کو بلاتعطل بنائے گا بلکہ مستقبل کی بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ ضروریات کو بھی پورا کرے گا۔
آوٹر رنگ روڈ کا فائدہ صرف جبل پور تک محدود نہیں رہے گا۔ بریلا، مانیگاوں، شاہ پورہ، سیہورا، پاٹن، امجھر، کشنیر، آدھارتال اور گڑھا سمیت کئی علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ ساتھ ہی منڈلا، ڈنڈوری، نرسنگھ پور اور کٹنی جیسے اضلاع کی کنیکٹوٹی بھی بہتر ہو گی۔ بہتر سڑک نیٹ ورک کی وجہ سے صنعتوں، ویئر ہاوس، کولڈ اسٹوریج، لاجی سٹکس پارک اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر ہزاروں روزگار پیدا ہونے کا امکان ہے۔
پروجیکٹ میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ تعمیراتی کام میں تقریباً 40 لاکھ میٹرک ٹن فلائی ایش کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو صنعتی فضلے کے دوبارہ استعمال کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس کے علاوہ شجر کاری، گرین بیلٹ کی تیاری اور جدید نکاسیِ آب کے نظام کے ذریعے ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
وزیرِ تعمیراتِ عامہ راکیش سنگھ نے کہا کہ جبل پور آوٹر رنگ روڈ پروجیکٹ صرف ایک سڑک کی تعمیر کا پروجیکٹ نہیں ہے، بلکہ مہاکوشل خطے کے مستقبل کو سنوارنے والا ترقیاتی سفر ہے۔ بہتر کنیکٹوٹی، تیز آمد و رفت، ایندھن کی کم کھپت، مضبوط لاجی سٹکس، بڑھتی ہوئی سیاحت، صنعتی توسیع اور روزگار کے مواقع کے ذریعے یہ پروجیکٹ خطے کی معاشی ترقی کا نیا باب لکھنے جا رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ کوریڈور وسطی ہندوستان کے ترقیاتی نقشے پر ایک اہم پہچان قائم کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن