
حیدرآباد، 29 مئی (ہ س)۔
تلنگانہ رکشا سمیتی (ٹی آر ایس) کی صدر کے کویتا نے جمعہ کے روز مجوزہ ’رائتھو ڈسکام‘ (کسان ڈ سکام) کی سخت مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت اس اقدام کے ذریعے ’کسانوں کے ساتھ دھوکہ‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حیدرآباد کے علاقے ایرہ گڈہ میں تلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ٹی جی ای آر سی) کی جانب سے منعقدہ عوامی سماعت سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے مطالبہ کیا کہ اسی نوعیت کی سماعتیں ریاست کے تمام 33 اضلاع میں بھی منعقد کی جائیں، کیونکہ یہ مسئلہ تلنگانہ کی زراعت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے کسانوں نے تقریباً 29 لاکھ بورویلوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور یاد دلایا کہ سابق بی آرایس حکومت نے بجلی کے شعبے پر تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے تھے، جس کے نتیجے میں ریاست میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کویتا نے الگ کسان ڈسکام کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اس منصوبے کے بارے میں عوام کو مناسب معلومات فراہم کرنے یا اسمبلی میں اس پر بحث کرانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے ڈسکام کی مالی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں پہلے ہی تقریباً 69 ہزارکروڑ روپے کے خسارے میں ہیں۔ نہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اس اقدام کے نتیجے میں مستقبل میں زرعی پمپ سیٹوں پرمیٹر نصب کیے جا سکتے ہیں اور بجلی کے شعبے کی نجکاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
کویتا نے تلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن سے اس تجویز کو مسترد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس حساس معاملے پر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق