مغربی بنگال میں دراندازوں کے لیے 11 مقامات پر بنائے گئے ہولڈنگ سینٹر، سب سے زیادہ قیدی بشیرہاٹ میں
کولکاتا، 29 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت نے بنگلہ دیشی یا روہنگیا ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے لوگوں کو رکھنے کے لیے ریاست کے مختلف حصوں میں ہولڈنگ سینٹر شروع کر دیے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ نے ان کیمپوں کی تعداد اور وہاں رکھے گئے لوگوں کی تفصیلی معلومات ج
دراندازوں کی جانچ کرتی پولیس


کولکاتا، 29 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت نے بنگلہ دیشی یا روہنگیا ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے لوگوں کو رکھنے کے لیے ریاست کے مختلف حصوں میں ہولڈنگ سینٹر شروع کر دیے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ نے ان کیمپوں کی تعداد اور وہاں رکھے گئے لوگوں کی تفصیلی معلومات جاری کی ہے۔

جمعہ کی صبح جاری انتظامیہ کے بیان کے مطابق، اب تک ریاست میں کل 11 مقامات پر ہولڈنگ سینٹر بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ کیمپ پولیس ضلع کی سطح پر اور کچھ انتظامی ضلع کی سطح پر چلائے جا رہے ہیں۔ فی الحال باروئی پور، سندر بن، بشیرہاٹ، بونگاوں، باراسات، مرشد آباد، جنگی پور اور کرشن نگر پولیس اضلاع میں ایسے سینٹر کھولے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مالدہ، کوچ بہار اور دکشن دیناج پور اضلاع میں بھی ہولڈنگ سینٹر بنائے گئے ہیں۔

سب سے زیادہ ہولڈنگ سینٹر بشیرہاٹ پولیس ضلع میں بنائے گئے ہیں، جہاں کل تین کیمپ کام کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی یا روہنگیا ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ اسی علاقے میں ہے۔ باقی تمام اضلاع میں ایک ایک سینٹر بنایا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پوری ریاست کے ہولڈنگ سینٹروں میں فی الحال کل 335 لوگوں کو رکھا گیا ہے۔ ان میں 148 مرد، 99 خواتین اور 88 بچے شامل ہیں۔ وہیں مرشد آباد پولیس ضلع کے ہولڈنگ سینٹر میں 19 لوگوں کو رکھا گیا ہے۔ دیگر تمام سینٹروں میں قیدیوں کی تعداد 10 سے کم بتائی گئی ہے۔

اس دوران دکشن دیناج پور ضلع کے تپن علاقے میں واقع رام پور میں انتظامی استعمال کے لیے ’کرم تیرتھ بھون‘ کو بھی ہولڈنگ سینٹر میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں تیزی سے کام چل رہا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے ہدایت دی ہے کہ مغربی بنگال میں پکڑے جانے والے بنگلہ دیشی یا دیگر ممالک کے لوگوں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا، بلکہ براہِ راست ہولڈنگ سینٹر میں رکھ کر انہیں بی ایس ایف کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ انہیں ان کے ملک ڈی پورٹ (واپس) کیا جا سکے۔

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande