ہائی کورٹ نے بی جے پی لیڈر گورو بھاٹیہ کے خلاف توہین آمیز پوسٹ ہٹانے کا حکم دیا
نئی دہلی، 29 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس منی پشکرنا کی بنچ نے ایک ''ایکس'' اور یوٹیوبر کو ہدایت دی ہے کہ وہ 2025 میں ایک نیوز چینل کے شو کے دوران مبینہ طور پر بے ہوش نظر آنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور وکیل گورو بھاٹیہ کے
ہٹانا


نئی دہلی، 29 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس منی پشکرنا کی بنچ نے ایک 'ایکس' اور یوٹیوبر کو ہدایت دی ہے کہ وہ 2025 میں ایک نیوز چینل کے شو کے دوران مبینہ طور پر بے ہوش نظر آنے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور وکیل گورو بھاٹیہ کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کو ہٹا دیں۔

جمعہ کو سماعت کے دوران گورو بھاٹیہ نے کہا کہ 25 ستمبر 2025 کو ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا سے ایسے ہتک آمیز مواد کو ہٹانے کا حکم دیا۔ اس کے باوجود شمیتا یادو ہتک آمیز مواد پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رینٹنگ گولا نامی ایکس اکاونٹ رکھنے والے نے عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود پوسٹس اپ لوڈ کیں۔ شمیتا یادو رینٹنگ گولا کے نام سے ایکس اکاونٹ چلاتی ہیں۔

گورو بھاٹیہ نے ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں ایک نیوز چینل کے شو کے دوران ان کے مبینہ طور پر بغیر پینٹ کے نظر آنے کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ہتک آمیز مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل کی سماعت کے دوران، گورو بھاٹیہ کے وکیل، راگھو اوستھی نے کہا تھا کہ درخواست گزار نے نیوز چینل کے شو کے دوران شارٹس پہن رکھی تھیں اور کیمرہ مین نے غلطی سے اس کا نچلا حصہ دکھا دیا۔

اوستھی نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پوسٹس میں پوسٹ کیا گیا مواد گورو بھاٹیہ کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اوستھی نے عدالت سے سوشل میڈیا سے قابل اعتراض تبصروں کو ہٹانے کو کہا تھا۔ بھاٹیہ کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سماج وادی پارٹی کے میڈیا سیل، نیوز لانڈری، عام آدمی پارٹی کے لیڈر سوربھ بھاردواج، کانگریس کی راگنی نائک اور صحافی ابھیسار شرما نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں مواد کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے ان افراد کی سوشل میڈیا پوسٹس کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande