وزیر اعلیٰ نے روہنی میں سب رجسٹرار دفتر میں افراتفری پر برہمی کا اظہار ، عہدیداروں کو سخت ہدایات جاری کیں
نئی دہلی، 29 مئی (ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو روہنی سیکٹر 16 کے امبیڈکر بھون میں واقع محکمہ ریونیو کے ای-سب رجسٹرار دفاتر VI-اے (ماڈل ٹاون/پیتم پورہ) اور VI-سی (روہنی) کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران وزیراعلیٰ نے عمارت کی
برہم


نئی دہلی، 29 مئی (ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو روہنی سیکٹر 16 کے امبیڈکر بھون میں واقع محکمہ ریونیو کے ای-سب رجسٹرار دفاتر VI-اے (ماڈل ٹاون/پیتم پورہ) اور VI-سی (روہنی) کا اچانک معائنہ کیا۔

معائنے کے دوران وزیراعلیٰ نے عمارت کی خستہ حالی، ناقص لائٹنگ، غیر فعال ایئرکنڈیشنر، ٹوٹے فرش، گندے بیت الخلاء، بیٹھنے کی کمی اور دیکھ بھال میں غفلت پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ ایسی جگہ پر اس طرح کی خرابی ناقابل قبول ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ اہم دستاویزات اور جائیداد سے متعلق کام کے حصول کے لیے آتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے دفتر میں موجود شہریوں سے براہ راست بات چیت کی اور ان کے مسائل سنے۔ بہت سے لوگوں نے طویل انتظار کے دورانیے، بیٹھنے کے ناکافی انتظامات، ٹوکن سسٹم، خراب ایئر کنڈیشنگ اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کی شکایت کی۔ وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ حکام کو موقع پر ہی ہدایت کی کہ شہریوں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری دفاتر میں باعزت اور آرام دہ ماحول فراہم کرے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دفتر کی عمارت کی حالت برسوں سے نظر انداز ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر لائٹس بند ہوں، بیت الخلاء ناقابل استعمال ہوں، فرش ٹوٹے ہوں، شہریوں کے بیٹھنے کا کوئی انتظام نہ ہو تو اس سے انتظامی احتساب پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں خط و کتابت اور مرمت کی تجاویز کا مکمل ریکارڈ پیش کریں۔ معائنے کے دوران وزیر اعلیٰ نے عمارت میں ردی، ناقابل استعمال اشیاء اور غیر منظم ریکارڈ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عمارت کی باقاعدہ نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے واضح ذمہ داری قائم کی جائے اور ہر دفتر میں ایک ذمہ دار افسر یا نگران مقرر کیا جائے تاکہ انفراسٹرکچر، صفائی ستھرائی اور دیکھ بھال کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ عمارت میں فیس لفٹ کا ضروری کام ایک ہفتہ کے اندر مکمل کریں۔ اس میں تمام ناقص لائٹس کو تبدیل کرنا، ایئر کنڈیشنرز کی مرمت، ٹوٹے ہوئے فرش اور ٹائلوں کی مرمت، صفائی کو یقینی بنانا، شہریوں کے لیے مناسب بینچ اور بیٹھنے کی سہولت فراہم کرنا اور انتظار کرنے والوں کے لیے بہتر سہولیات تیار کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دفتر کی نئی اور جدید عمارت کا بندوبست نہیں ہو جاتا، موجودہ احاطے میں موجود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔ یہ ناقابل قبول ہے کہ کسی بھی کام کے لیے آنے والے بزرگ شہریوں، خواتین یا دیگر کو گھنٹوں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ چھوٹے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی حساسیت اور قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ریکارڈ روم اور دستاویزات کے حفاظتی انتظامات کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اہم ریونیو ریکارڈ کی حفاظت، ڈیجیٹائزیشن اور محفوظ کرنے کو اولین ترجیح دیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کسی بھی حادثے یا تکنیکی خرابی کی صورت میں سرکاری ریکارڈ محفوظ رہے۔ وزیر اعلیٰ نے غیر ضروری تاخیر کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو واضح انتباہ جاری کیا کہ شہریوں کے کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور کسی کو غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کیا جائے۔ رشوت خوری، ہراساں کرنے یا جان بوجھ کر تاخیر کی کوئی شکایت موصول ہوئی تو متعلقہ اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری دفاتر عوام کی خدمت کے لیے موجود ہیں، انہیں ہراساں کرنے کے لیے نہیں۔ یہ ہماری حکومت کی ترجیح ہے کہ ہر شہری کو شفاف، بدعنوانی سے پاک اور باعزت خدمات حاصل ہوں۔ کسی بھی شہری کو جائز کام کرتے ہوئے ادھر ادھر بھٹکنا یا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے میں کی گئی بہتری کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ وہ ذاتی طور پر انتظامات کا معائنہ اور جائزہ لیں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے دی گئی ہدایات پر مو¿ثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande