
بھج، 29 مئی (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گجرات کے بھوج میں کہا کہ مرکزی حکومت سرحدی سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے اور اگلے دو سالوں میں ملک کا سرحدی علاقہ دشمنوں کی بری نظر سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، مضبوط حفاظتی بنیادی ڈھانچے اور بی ایس ایف کے جوانوں کی بہادری کی طاقت پر ہندوستان کی سرحدوں کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
آج کچھ کے علاقے بھوج میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ شاہ نے کہا کہ بی ایس ایف کے اہلکار سر کریک اور بھوج کے علاقے میں چٹان کی طرح سرحد کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کی ہمت، لگن اور چوکسی کی وجہ سے اس خطے کے لوگ محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے اور اس کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے سرحدی سلامتی کے لیے بجٹ کی کمی نہیں ہونے دی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سرحدی حفاظتی طریقہ کار کو مضبوط بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں واچ ٹاورز تعمیر کیے گئے ہیں اور کئی بارڈر آو¿ٹ پوسٹس (بی او پیز) کو زمینی سطح سے اوپر اٹھا کر زیادہ محفوظ بنایا گیا ہے۔ ان کوششوں سے جوانوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف اپنے قیام کے 60 ویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر سرحدی سلامتی کے تصور کو نئے سرے سے فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے وقت میں ایک کواڈریلیٹرل سیکیورٹی گرڈ تیار کیا جائے گا اور صرف بارڈر سیکیورٹی کی جگہ ٹیریٹوریل سیکیورٹی کا ایک نیا ماڈل نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس نئے انتظام میں بی ایس ایف کے ساتھ ساتھ مقامی شہری، سول انتظامیہ، مقامی پولیس اور فوج بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ اس سے حفاظتی نظام مزید مضبوط اور جامع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سلامتی کو عوامی شرکت سے جوڑنے کی یہ کوشش ملک کی سلامتی کو ایک نئی سمت دے گی۔
اسمارٹ بارڈر سیکیورٹی پروجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر کے سرحدی سلامتی کو تکنیکی طور پر مضبوط کر رہی ہے۔ ڈرون، ریڈار، جدید ترین سینسر، الیکٹرانک نگرانی کے نظام اور جدید مواصلاتی نیٹ ورک حفاظتی آلات میں نئی طاقت کا اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ان ٹیکنالوجیز اور اہلکاروں کی تعیناتی سے اتنا مضبوط حفاظتی گرڈ پیدا ہوگا کہ کوئی بھی گھسنے والا ہندوستانی سرحد عبور کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کچھ نئے علاقوں کی حفاظتی ذمہ داری بی ایس ایف کے حوالے کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ مغربی بنگال میں نامکمل سرحدی باڑ کو سیکورٹی گرڈ کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی جگہوں پر باڑ لگانے کا کام رک گیا تھا۔ اب اس سمت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے آگے بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جہاں روایتی باڑ لگانا ممکن نہیں ہے، وہاں تکنیکی باڑ لگانے اور الیکٹرانک نگرانی کے نظام کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ جنگلات، ندیوں اور ناقابل رسائی علاقوں میں دراندازی کو روکنے کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں پورے سرحدی علاقے کو جدید ترین حفاظتی نظام سے جوڑا جائے گا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر شاہ نے بی ایس ایف کے جوانوں کی بہادری اور فرض کے تئیں لگن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک ان کی قربانی اور لگن کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کی وجہ سے ہی سرحدی علاقوں میں امن و امان قائم ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آنے والے سالوں میں ہندوستان کی سرحدیں دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ ہوں گی اور ملک کا حفاظتی نظام مضبوط ہو کر ابھرے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan