
حیدرآباد، 28 مئی (ہ س)۔ تیلگودیشم پارٹی تلنگانہ کی سیاست میں دوبارہ سرگرم ہونے کی تیاریاں شروع کرچکی ہے۔ نارالوکیش نے تیلگودیشم پارٹی کے یوم تاسیس پر منعقدہ ’مہاناڈو‘ سے خطاب کے دوران اس بات کا اعلان کیا کہ تلگودیشم پارٹی تلنگانہ میں دوبارہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرنے کے علاوہ انڈومان کی سیاست میں بھی حصہ لینے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ لوکیش نائیڈو نے مہاناڈو سے خطاب کے دوران کہا کہ ان کی پارٹی تلنگانہ میں اپنے سرگرم کارکنوں اور قائدین کی بڑی تعداد موجود ہے جو کہ پارٹی سربراہ و وزیر اعلی تلگو دیشم پارٹی این چندرا بابو نائیڈو کے فیصلہ کے منتظر ہیں۔
وزیر آندھراپردیش لوکیش نائیڈو کے اعلان کے ساتھ ہی تلنگانہ میں موجود تلگو دیشم قائدین کے درمیان شہر حیدرآباد و ریاست تلنگانہ میں پارٹی کے مستقبل کے سلسلہ میں قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں۔کہا جار ہاہے کہ تلگو دیشم پارٹی کی تلنگانہ میں دوبارہ سیاسی سرگرمیوں کا آغاز شہری بلدیات کے انتخابات سے ہوسکتا ہے کیونکہ تلنگانہ میں مجوزہ شہری بلدیات کے انتخابات کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کسی بھی وقت اعلامیہ کی توقع کی جار ہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے 10مئی کو دورۂ حیدرآباد کے دوران وزیراعلی آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈوسے ان کی قیامگاہ واقع جوبلی ہلز حیدرآباد میں ملاقات کے دوران تیلگو دیشم اور بی جے پی اتحاد کے ساتھ جی ایچ ایم سی انتخابات پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔ نارا لوکیش نائیڈو کی مہاناڈو کے دوران کی گئی تقریر میں پارٹی کی سرگرمیوں کو تلنگانہ میں فروغ دینے کے اعلان کے ساتھ کہا جار ہا ہے کہ تیلگودیشم پارٹی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ ملکاجگری میونسپل کارپوریشن ‘ سائبرآباد میونسپل کارپوریشن کے بلدی انتخابات کے علاوہ دیگر کارپوریشن کے انتخابات میں این ڈی اے کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے حصہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔جی ایچ ایم سی اور دیگر بلدیات کے انتخابات میں تلگو دیشم پارٹی حصہ لیتے ہوئے تلنگانہ میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرتی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ میں این ڈی اے میں شامل سیاسی جماعتوں کو استحکام حاصل ہونے کا خدشہ ہے لیکن تلگودیشم آندھرائی سیاسی جماعت ہونے کے سبب تلنگانہ کے دیہی و مضافاتی علاقوں میں تلگو دیشم پارٹی کو کوئی استحکام حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے لیکن شہری علاقوں میں این چندرا بابو نائیڈو کی پالیسیوں اور ترقیاتی اقدامات کے نتیجہ میں انہیں آج بھی پسند کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے دورکے بہترین انتظامی صلاحیتوں کے حامل سیاسی قائد کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق