
جموں،28 مئی (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کے گھنے جنگلات میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائی ’آپریشن شیروالی‘ کا لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے جائزہ لیا۔ انہوں نے زمینی صورتحال، آپریشنل حکمتِ عملی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا معائنہ کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آپریشن شیروالی گزشتہ چھ روز سے ضلع راجوری کے منجا کوٹ علاقے کے گمبھیر مغلاں بیلٹ کے گھنے جنگلات میں جاری ہے، جہاں دہشت گردوں کے چھپے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سیکورٹی فورسز نے اسپیشل فورسز کے ذریعے مشتبہ دہشت گرد ٹھکانوں پر شدید فائرنگ اور حملے کیے تاکہ دشوار گزار جنگلاتی علاقے میں چھپے دہشت گردوں کو باہر نکالا جا سکے۔ شمالی کمان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے گمبھیر مغلاں علاقے کا دورہ کرکے آپریشن کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے فوج، جموں و کشمیر پولیس، انٹیلی جنس بیورو، سی آر پی ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران سے ملاقات کرکے آپریشن میں باہمی تال میل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔آرمی کمانڈر نے آپریشن میں تعینات جوانوں سے بھی ملاقات کی اور سخت حالات میں ان کے حوصلے، عزم اور پیشہ ورانہ خدمات کی سراہنا کی۔ انہوں نے تمام ٹیموں کو ہدایت دی کہ وہ مکمل ہم آہنگی اور درست حکمت عملی کے ساتھ مشن کو جاری رکھیں۔ذرائع کے مطابق مشترکہ ٹیموں نے گھنے جنگلات، گہری کھائیوں اور قدرتی غاروں پر مشتمل علاقوں میں وسیع تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ دوری میل-گمبھیر مغلاں بیلٹ میں مشتبہ دہشت گرد ٹھکانوں پر ملٹی بیرل گرینیڈ لانچروں سے بھی حملے کیے گئے۔
کارروائی کے دوران جنگلاتی علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے جبکہ اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے آپریشن زون میں اتارا گیا تاکہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ایک دہشت گرد ٹھکانہ تباہ کیے جانے کے بعد وہاں خون کے نشانات ملے ہیں، جن سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ فرار ہونے والے دہشت گرد زخمی ہوئے ہیں۔سیکورٹی فورسز نے پیر کو مختصر جھڑپ کے بعد ایک دہشت گرد ٹھکانہ تباہ کیا تھا جبکہ علاقے کا محاصرہ مزید سخت کر دیا گیا تھا۔فوج، جموں و کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ ٹیمیں ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور سنفر ڈاگز کی مدد سے ملحقہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق اضافی دستے بھی علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں دو سے تین پاکستانی دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر