دہلی فسادات کے ملزم اطہر خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ
نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش کے ملزم اطہر خان کی درخواست ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم جاری کیا۔ سماعت کے دوران اطہر خان کے وکیل ارجن دیوان نے کہا کہ مقدمے کے
ضمانت


نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کی سازش کے ملزم اطہر خان کی درخواست ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم جاری کیا۔

سماعت کے دوران اطہر خان کے وکیل ارجن دیوان نے کہا کہ مقدمے کے محفوظ گواہ نے تین دن کے اندر اپنا بیان بدل دیا ہے۔ محفوظ گواہ نے چاند باغ میں ایاز کے تہہ خانے میں بریانی پہنچائی تھی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کئی لوگ فسادات اور قتل کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور اطہر خان بھی وہاں موجود تھے۔ دیوان نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اطہر خان نے سازش میں کوئی فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اطہر خان نے عمر خالد سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی ان سے کوئی اسلحہ برآمد ہوا۔ دیوان نے کہا کہ گلفشہ فاطمہ کا کردار اطہر خان کے کردار سے بھی زیادہ سنگین تھا اور سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دی تھی۔

اپنی درخواست ضمانت میں اطہر خان نے کہا کہ ان کے خلاف الزامات وہی ہیں جن پر سپریم کورٹ نے دیگر ملزمان کی ضمانت منظور کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اطہر خان کو دیگر ملزمان کے برابر ضمانت دی جائے۔

5 جنوری کو سپریم کورٹ نے گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کی ضمانت منظور کی تھی۔ اس کے بعد 22 مئی کو سپریم کورٹ نے خالد سیفی اور تسلیم احمد کی چھ ماہ کے لیے عبوری ضمانت منظور کر لی۔ اس کیس کے چار دیگر ملزمان صفورا زرگر، آصف اقبال تنہا، دیوانگن کلیتا اور نتاشا ناروال کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande