دہلی ہائی کورٹ نے سکھ مخالف فسادات سے متعلق جنک پوری تشدد کیس میں سجن کمار کو نوٹس جاری کیا
نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق جنک پوری تشدد معاملے میں نچلی عدالت کی جانب سے سجن کمار کو بری کئے جانے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی
DL-HC-Anti-Sikh-Riots-Sajjan-K


نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق جنک پوری تشدد معاملے میں نچلی عدالت کی جانب سے سجن کمار کو بری کئے جانے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے اگلی سماعت 29 ستمبر کو مقرر کی۔

یہ درخواست جنک پوری سکھ فسادات کے شکار منجیت سنگھ نے دائر کی ہے ۔ ہائی کورٹ میں درخواست گزار کی طرف سے وکیل کامنا ووہرا، گربخش سنگھ اور سرپریت کور نے دلائل دیے۔ درخواست میں راؤس ایونیو کورٹ کے 22 جنوری کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس نے اس معاملے میں سجن کمار کو بری کر دیا تھا۔

راؤس ایونیو کورٹ میں سماعت کے دوران سجن کمار نے خود کو بے قصورقرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خوابوں میں بھی اس جرم میں ملوث نہیں ہو سکتے اور ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ 23 اگست 2023 کو راؤس ایونیو کورٹ نے سجن کمار کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔

راؤس ایونیو کورٹ نے سجن کمار کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 147، 148، 153اے،295، 149، 307، 308، 323، 325، 395 اور 436 کے تحت الزامات عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، عدالت نے سجن کمار کے خلاف قتل کے الزام کی دفعہ 302 کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جسے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) نے داخل کیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے 17 دسمبر 2018 کو دہلی سکھ فسادات کیس میں سجن کمار کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، اس کے بعد سجن کمار نے 31 دسمبر 2018 کو کڑکڑڈوما کورٹ میں خودسپردگی کی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande