
ممبئی ، 25 مئی (ہ س) پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کو لے کر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے مرکزی اور مہاراشٹر حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام کی جیب پر حکومت کھلے عام ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے بی جے پی لیڈران نے وعدہ کیا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل 35 روپے فی لیٹر میں فراہم کیا جائے گا، مگر گزشتہ 12 برسوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 دنوں کے دوران ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے نام پر قیمتوں میں اضافہ پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ سپکال نے کہا کہ حکومت کا ایران جنگ کو جواز بنا کر قیمتیں بڑھانا گمراہ کن ہے اور حکومت کو فوری طور پر یہ اضافہ واپس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مہنگائی پر قابو نہیں پا سکتی تو وزیر اعظم نریندر مودی کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں مودی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں 38 فیصد اور ڈیزل کی قیمتوں میں 62 فیصد اضافہ کیا ہے، حالانکہ اس عرصے میں ایران-اسرائیل جنگ جیسی صورتحال موجود نہیں تھی۔ سپکال نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے مطابق طے ہوتی ہیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، مگر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 72 روپے فی لیٹر سے اوپر نہیں جانے دی گئیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کے دور میں جب خام تیل کی قیمتیں 50 سے 55 ڈالر فی بیرل تھیں، تب بھی عوام کو تقریباً 100 روپے فی لیٹر پیٹرول خریدنا پڑ رہا تھا۔ سپکال نے مزید کہا کہ اب حکومت کم معیار کا پیٹرول ایتھنول ملا کر 110 روپے فی لیٹر فروخت کر رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں مودی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے عوام سے 43 لاکھ کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں بھارت پیٹرولیم، انڈین آئل کارپوریشن اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن نے چند گھنٹوں میں ہی 12 ہزار 400 کروڑ روپے کمائے ہیں، جو عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر حاصل کیے گئے۔
سپکال نے کہا کہ کانگریس حکومت کے دور میں جب پیٹرول کی قیمت میں صرف ایک یا دو روپے اضافہ ہوتا تھا تو بی جے پی لیڈر سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرتے تھے، مگر اب مہنگائی پر خاموش ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ ریاست میں پیٹرول اور ڈیزل کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ سپکال نے کہا کہ اگر واقعی ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے تو مختلف اضلاع کے پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں کیوں لگی ہوئی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ذخیرہ اندوزی کا بہانہ بنا کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سپکال نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے اور اسی کے خلاف کانگریس پارٹی منگل سے ریاست کے ہر ضلع میں احتجاجی مظاہرے کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے