
نئی دہلی، 25 مئی (ہ س) ۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے آج مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے پرچے کی جانچ سے متعلق تنازعہ کی روشنی میں ایک اور ادارے کو بدعنوانی کی علامت بنا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے ٹویٹر پر لکھا کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار سی بی ایس ای بورڈ امتحانات کو لے کر اتنے سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ 18.5لاکھ بچوں نے امتحان دیا، اور ایک ہفتے تک آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم)، غلط مارکنگ، اور چیکنگ میں بے ضابطگیوں کی شکایات نہیں سنی جا رہی ہیں۔ ایک 17 سالہ طالب علم، جس کی جوابی شیٹ غلط طریقے سے چیک کی گئی تھی، انصاف کی امید میں سوشل میڈیا پر گئی، لیکن اس کو کوئی مدد نہیں ملی بلکہ اسے سوشل میڈیا پر غدار ،جارج سوروس کا ایجنٹ اور ڈیپ ٹیسٹ کا حصہ کہہ کر بدنام کیا گیا
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں اور جینزی سے ڈرتی ہے کیونکہ وہ سوال پوچھ رہے ہیں۔ یہ حکومت سوال کرنے والوں کو بدنام کرتی ہے، ڈراتی ہے اور دباتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سی بی ایس ای کے 12ویں بورڈ امتحان کے نتائج کے اعلان کے بعد ازسرنو جانچ کا عمل تنازعات میں گھر گیا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ بورڈ کی جانب سے فراہم کردہ جوابی پرچوں کی اسکین شدہ کاپیاں اس قدر دھندلی ہیں کہ انہیں پڑھنا مشکل ہے۔ بہت سے طلباء نے فیس ادا کرنے کے باوجود ادائیگی کی تصدیق نہ ملنے اور پورٹل پر تکنیکی خرابیوں کی شکایت کی ہے۔ دوبارہ تشخیص پورٹل پر بار بار سائٹ انڈر مینٹیننس پیغام سے والدین اور طلباء پریشان ہیں۔
اس پر بورڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے پیمنٹ اسٹیٹس اپڈیٹ میں تاخیر ہو رہی ہے اور طلبا کو بار بار درخواست نہیں کرنا چاہئے ۔ بورڈ نے یہ بھی اعلان کیا کہ طلباء اب اپنی جوابی شیٹیں صرف 100 میں دیکھ سکتے ہیں، جبکہ پہلے 700 روپے دینا پڑتا تھا۔ کسی مخصوص سوال کی دوبارہ جانچ کے لیے 25 روپے کی فیس مقرر کی گئی ہے۔ بورڈ نے کہا کہ یہ قدم شفافیت اور طلباء کے مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔
سی بی ایس ای کے چیئرمین راہل سنگھ اور اسکول ایجوکیشن کے سکریٹری سنجے کمار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ او ایس ایم سسٹم تشخیص کے عمل کو تیز تر، محفوظ اور شفاف بناتا ہے، اور یہ کہ کئی بڑے ادارے اسے پہلے ہی اپنا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ