ایم ایل اے کرنیل سنگھ کی نفرت انگیزی پر جمعیة علماءہند کے وفد کی اے سی پی سے ملاقات
نمازیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور شرپسندوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ، مکتوب کی نقل ایل جی و وزیر اعلیٰ دہلی کوارسالنئی دہلی، 25 مئی(ہ س)۔ حسب مشورہ صدر جمعیة علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی، جمعیة علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم
ایم ایل اے کرنیل سنگھ کی نفرت انگیزی پر جمعیة علماءہند کے وفد کی اے سی پی سے ملاقات


نمازیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور شرپسندوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ، مکتوب کی نقل ایل جی و وزیر اعلیٰ دہلی کوارسالنئی دہلی، 25 مئی(ہ س)۔ حسب مشورہ صدر جمعیة علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی، جمعیة علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے آج رانی باغ تھانے میں اے سی پی منگول پوری شری مراری لال سے ملاقات کی اور پیتم پورہ (شکور بستی) کے رام لیلا گراو¿نڈ کے قریب پیش آئے حالیہ تنازع اور انہدامی کارروائی کے تعلق سے ایک تفصیلی میمورنڈ م پیش کیا۔ اس موقع پرمتعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او بھی موجود تھے۔وفد نے مقامی ایم ایل اے کرنیل سنگھ کے اشتعال انگیز بیانات و اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ وفد نے اپنے مکتوب کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ، میڈیا رپورٹوںور سوشل میڈیا مواد سمیت متعدد شواہد بھی پولیس حکام کے حوالے کیے۔ جمعیة علماءہند کی جانب سے پیش کردہ مکتوب میں واضح کیا گیا کہ کرنیل سنگھ کی جانب سے یہ دعویٰ کہ منہدم کی گئی دیوار یا ڈھانچہ مسجد یا مدرسہ کا حصہ تھابے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ مکتوب میں کہا گیا کہ مذکورہ دیوار یا ڈھانچہ نہ مسجد کا حصہ تھا اور نہ ہی مدرسہ کا، بلکہ مقامی ایم ایل اے اس کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اس طرح پیش کیا۔مکتوب میں مزید کہا گیا کہ کرنیل سنگھ نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر نہ صرف دیوار گرائے بلکہ مسلسل اشتعال انگیز اور نفرت آمیز بیانات دیے، جنہیں مختلف قومی میڈیا اداروں نے نشرکیا اور جو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلائے گئے۔ خود کرنیل سنگھ نے بھی ان ویڈیوز اور خبروں کو اپنے فیس بک اکاو¿نٹ پر شیئر کرتے ہوئے فخریہ انداز میں اپنی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ ایک ویڈیو میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہاں نہ مدرسہ چلنے دیا جائے گا اور نہ مسجد۔جمعیة علماءہند کے وفد نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ ایسے بیانات اور اقدامات نے علاقے میں خوف، بے چینی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کردی ہے اور امن و امان کی صورت حال کو متاثر کیا ہے۔ میمورنڈم میں کہا گیا کہ ایک منتخب عوامی نمائندے کی جانب سے نعروں کے درمیان انہدامی کارروائی کرنا اور ایک مخصوص مذہبی طبقے کو نشانہ بنانا کھلی اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کے مترادف ہے، جو مستقبل میں قانون ہاتھ میں لینے کے رجحان کو فروغ دے سکتا ہے۔وفد نے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا کہ کرنیل سنگھ کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 153A، 153B، 295A، 505 اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جائے۔ ساتھ ہی منہدم کیے گئے ڈھانچے کی ملکیت اور نوعیت کی غیر جانبدارانہ تحقیق کر کے عوام کے سامنے حقیقت واضح کی جائے۔ نیز مسجد میں آنے والے نمازیوں کی حفاظت کا معقول بندوبست کیا جائے۔میمورنڈ م میں یہ بھی مطالبہ کیا گیاکہ کوئی بھی فرد، خواہ وہ کسی بھی عہدے یا سیاسی حیثیت کا حامل ہو، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے اور تمام شہریوں کے آئینی حقوق اور ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جائے۔اس مکتوب کی نقول لیفٹیننٹ گورنر دہلی اور وزیر اعلیٰ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔اس موقع پر جمعیة علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ وہ دہلی پولیس کمشنر اور متعلقہ ڈی سی پی سے صور ت حال سے متعلق کئی دنوں سے رابطہ رابطے میں ہیں، تاکہ علاقے میں کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکا جا سکے اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔وفد میں ناظم عمومی جمعیة علماءہند کے ہمراہ مولانا آفتاب عالم صدیقی ناظم اعلیٰ جمعیة علماءصوبہ دہلی ،مولانا مفتی خلیل قاسمی نائب صدر جمعیة علماءصوبہ دہلی، قاری محمد عارف قاسمی نائب صدر جمعیة صوبہ علماءدہلی ،حافظ محمد یوسف الاعظمی ناظم تنظیم جمعیة علماءصوبہ دہلی، مرکزی دفتر جمعیةعلماءہند دہلی سے مفتی ذاکر حسین قاسمی ، مقامی ذمہ داروں میں مولانا جمشید امام مسجد نور الٰہی پیتم پورہ، ڈاکٹر محمد یوسف پیتم پورہ شامل تھے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande