
لداخ , 25 مئی (ہ س)مرکزی وزارتِ داخلہ اور لداخ ایپکس باڈی لیہہ و کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے درمیان جاری مذاکرات میں اگرچہ کچھ انتظامی پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم لداخ کو مکمل ریاست یا بااختیار قانون ساز اسمبلی دینے کے معاملے پر سیاسی رکاوٹ برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت لداخ کو ریاستی درجہ یا مکمل قانون ساز اسمبلی دینے کے حق میں نہیں ہے، البتہ حکومت ایک ایسے منتخب انتظامی ڈھانچے پر غور کر رہی ہے جسے قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں، ساتھ ہی آرٹیکل 371 کی طرز پر آئینی تحفظات بھی دیے جائیں۔
کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے سینئر رکن سجاد کرگلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور تاحال کوئی حتمی معاہدہ یا واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے اور ایل اے بی نے ریاستی درجے اور چھٹے شیڈول سے متعلق اپنی تجاویز حکومت کے سامنے رکھی تھیں، جس کے جواب میں مرکز نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ اجلاس سے قبل حکومت کی جانب سے باضابطہ مسودہ پیش کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد آئینی و قانونی ماہرین اور دونوں تنظیموں کے نمائندے تفصیلی مشاورت کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مجوزہ فریم ورک واقعی لداخ کے مفادات، علاقائی توازن، حساسیت اور مستقبل کے جمہوری ڈھانچے کا تحفظ کرتا ہے یا نہیں۔
دہلی ذرائع کے مطابق مرکز لداخ کو ریاستی درجہ دینے سے اس لیے گریزاں ہے کیونکہ اس خطے کے وسائل محدود ہیں اور مالی طور پر خود کفیل بنانا مشکل ہوگا۔ تاہم مبصرین اس دلیل کو کمزور قرار دے رہے ہیں کیونکہ شمال مشرقی ریاستوں کے اخراجات کا بڑا حصہ بھی مرکز ہی برداشت کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اصل تشویش لداخ کی حساس جغرافیائی حیثیت اور چین سے ملحق سرحد ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکز اس وقت ریاستی درجے کے مطالبے کو واپس لینے کے بدلے اضافی اختیارات اور مراعات دینے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
لداخ کے لیے زیر غور اس نئے ماڈل نے جموں و کشمیر میں بھی ریاستی درجے کی بحث کو نئی جہت دے دی ہے، جہاں تمام سیاسی جماعتیں مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مرکز ایک ایسے منتخب ڈھانچے پر غور کر رہا ہے جس کی سربراہی وزیراعلیٰ طرز کے منتخب عہدیدار کے پاس ہو، مگر اسے مکمل ریاست یا قانون ساز اسمبلی والی یوٹی کا درجہ نہ دیا جائے۔ اگر ایسا ماڈل نافذ ہوتا ہے تو منتخب نمائندوں کو قانون سازی، انتظامیہ اور مالی معاملات میں وسیع اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ چیف سکریٹری بھی منتخب قیادت کے ماتحت ہوگا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر لداخ کو اس نوعیت کے اختیارات دیے جاتے ہیں جبکہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کے پاس انتظامی اختیارات برقرار رہتے ہیں، تو جموں و کشمیر میں مکمل ریاستی درجے کا مطالبہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
مرکز کی جانب سے زمین، روزگار اور ثقافتی تحفظ کے لیے آرٹیکل 371 جیسے تحفظات پر آمادگی نے بھی جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ لیہہ اور کرگل کی مشترکہ تحریک اور متحدہ مؤقف کو مبصرین مرکز پر دباؤ بڑھانے کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر