خواجہ معز الدین قتل:عدالتی تحقیقات سے حقیقت کاانکشاف ممکن
حیدرآباد، 25 مئی (ہ س) - معروف وکیل خواجہ معز الدین کے قتل کے پس پردہ محرکات کا پتہ چلانے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلئے لازمی ہے کہ عدالت کی نگرانی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے اورغیر جانبدرانہ تحقیقات کو یقینی بنایاجائے۔خواجہ معزالدی
خواجہ معز الدین قتل‘عدالتی تحقیقات سے حقیقت کاانکشاف ممکن


حیدرآباد، 25 مئی (ہ س) - معروف وکیل خواجہ معز الدین کے قتل کے پس پردہ محرکات کا پتہ چلانے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلئے لازمی ہے کہ عدالت کی نگرانی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے اورغیر جانبدرانہ تحقیقات کو یقینی بنایاجائے۔خواجہ معزالدین کے قتل پرشہر میں گرمانے والی سیاست نے پولیس تحقیقات کو مشتبہ بنانا شروع کردیاہے کیونکہ برسراقتدار کانگریس اور کانگریس سے دوستی رکھنے والی مجلس دونوں ہی اس معاملہ میں سرگرم ہوچکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق پولیس عہدیدار دونوں جماعتوں کے دباؤ میں ہیں اسی لئے پولیس سے غیرجانبدرانہ تحقیقات اورحقیقی قاتلوں کو منظر عام پر لانے کی توقعات پر شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں۔خواجہ معزالدین جوکہ سینیئر کونسل غلام یزدانی کے داماد تھے کے قتل نے نہ صرف شہرکی لاء اینڈ آرڈر صورتحال پر سوالات کھڑے کئے ہیں بلکہ مجلسی قیادت کے اچانک ان کے ساتھ کھڑے ہونے پربھی مختلف گوشوں میں سرگوشیاں کی جانے لگی ہیں۔وکلاء برادری کا کہناہے کہ اگراس مقدمہ کی تحقیقات جامع اورغیرجانبداری کے ساتھ کی جاتی ہیں تواپنے حق میں عدالت کے احکام حاصل کرنے ججس کو رشوت کے مقدمہ اور اس میں شامل سینئیر کونسل ودیگر ملزمین تک یہ کڑیاں جڑنے کاامکان ہے۔

اسکے علاوہ ملک پیٹ ممتازکالج کے قریب واقع ایک اراضی سے متعلق چیک باؤنس معاملات بھی منظر عام پر آسکتے ہیں۔ دن دہاڑے قلب شہر میں معزز وکیل کے قتل نے اوقافی جائیدادوں پرقبضہ جات پر توجہ دہانی کے ساتھ شہراوراطراف میں اراضیات معاملتوں اور سیاسی مخاصمت کو ہوادینی شروع کردی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande