مہاراشٹر میں ملک کا پہلا ’پانی کا سات بارہ‘ تیار کرنے کی منصوبہ بندی، آبی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے لیے نئی نظام سازی پر غور
مہاراشٹر میں ملک کا پہلا ’پانی کا سات بارہ‘ تیار کرنے کی منصوبہ بندی، آبی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے لیے نئی نظام سازی پر غورممبئی، 25 مئی(ہ س)۔ پانی کے بے تحاشہ استعمال کو روکنے اور آبی وسائل کے مؤثر نظم و نسق کے لیے مہاراشٹر میں زمین کے ’سات با
مہاراشٹر میں ملک کا پہلا ’پانی کا سات بارہ‘ تیار کرنے کی منصوبہ بندی، آبی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے لیے نئی نظام سازی پر غور


مہاراشٹر میں ملک کا پہلا ’پانی کا سات بارہ‘ تیار کرنے کی منصوبہ بندی، آبی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے لیے نئی نظام سازی پر غورممبئی، 25 مئی(ہ س)۔ پانی کے بے تحاشہ استعمال کو روکنے اور آبی وسائل کے مؤثر نظم و نسق کے لیے مہاراشٹر میں زمین کے ’سات بارہ‘ کی طرز پر ملک کا پہلا ’پانی کا سات بارہ‘ تیار کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ریونیو وزیر چندر شیکھر باونکولے نے آج وزارت میں ریونیو، آبی سپلائی و صفائی اور دیہی ترقی محکموں کے سیکریٹریوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں اس منصوبے کو عملی شکل دینے کی سمت مضبوط قدم اٹھایا گیا۔آبی نظم و نسق کے شعبے میں کام کرنے والی ’اکویریم‘ نامی تنظیم نے اس مقصد کے لیے ’واٹر آڈٹ‘ اور ’واٹر بیلنس شیٹ‘ کا تصور پیش کیا ہے۔ اس جدید منصوبے کو ابتدائی مرحلے میں ریاست میں تجرباتی بنیادوں پر نافذ کیا جائے گا۔ چندر شیکھر باونکولے نے بتایا کہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کی ہدایت پر یہ اجلاس طلب کیا گیا تھا۔اس وقت زمین کی ملکیت اور ریکارڈ کے لیے ’سات بارہ‘ نظام موجود ہے، لیکن پانی کے استعمال اور ذخائر کے لیے اس نوعیت کا کوئی باضابطہ ریکارڈ نظام موجود نہیں۔ پانی کو عالمی سطح پر جو اہمیت اور درجہ حاصل ہونا چاہیے، وہ فی الحال نہیں مل رہا۔ حکام کا ماننا ہے کہ جب پانی کا باقاعدہ آڈٹ ہوگا تو اس کے استعمال کے بارے میں ذمہ داری اور احتیاط پیدا ہوگی۔ جب تک پانی کے استعمال کا ریکارڈ مرتب نہیں کیا جائے گا، اس پر مؤثر کنٹرول ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی عوام کی جوابدہی طے ہو سکے گی۔ اسی مقصد کے تحت ’بلو گرین اربن ڈیولپمنٹ‘ کے طرز پر یہ اہم قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے لیے اکویریم کے سربراہ ڈاکٹر سبرامنیم کسنور، آبی ماہر ڈاکٹر اویناش قدم اور معاشی امور کے ماہر ادے نائر نے مشترکہ طور پر ’واٹر اکاؤنٹنگ فریم ورک‘ اور ’واٹر بیلنس شیٹ‘ کا جدید تصور تیار کیا ہے۔ اس کے تحت پانی کا تین مرحلوں میں آڈٹ کیا جائے گا اور ہر سال اس کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اس نظام کے ذریعے گرام پنچایت یا آبی ذخیرہ علاقوں میں پانی کے ذخیرے، آمد، خرچ اور باقی ماندہ پانی کا شفاف حساب رکھا جا سکے گا۔وزارت میں محکمہ ریونیو کے تحت منعقدہ اجلاس میں آبی سپلائی و صفائی محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری پراگ جین، دیہی ترقی محکمہ کے سیکریٹری چندرکانت پلکونڈوار، آبی تحفظ محکمہ کے سیکریٹری جتیندر پاپڈکر سمیت اکویریم تنظیم کے سربراہ سبرامنیا کسنور، آئی آئی ٹی بمبئی کے آبی ماہر ڈاکٹر اویناش قدم اور معاشی امور کے ماہر ادے نائر بھی موجود تھے۔ ریونیو وزیر چندر شیکھر باونکولے نے کہا کہ اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ نہ صرف پانی کی پیمائش ممکن ہوگی بلکہ پانی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کو ’اکوا کریڈٹس‘ کے ذریعے ترغیب بھی دی جائے گی۔ اس اقدام سے دیہی علاقوں میں پانی کے استعمال کو زیادہ ذمہ دارانہ اور شفاف بنایا جا سکے گا اور مستقبل میں ایک بڑی ’واٹر اکانومی‘ کی تشکیل میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر اس تجربے کو نافذ کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بنے گی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande