
نئی دہلی، 25 مئی (ہ س)۔
آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے جنتر منتر پر احکامات کی خلاف ورزی کرنے اور احتجاج کرنے کے لیے راو¿ز ایونیو کورٹ کی سزا پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی حفاظت اور ریزرویشن کے لیے آواز اٹھانے کی جر¿ات کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، لامبا نے کہا کہ یہ ان کے سیاسی کیرئیر کا پہلا کیس ہے جس کے نتیجے میں ایف آئی آر، چارج شیٹ اور اب سزا ہوئی ہے، لیکن وہ کسی سزا سے نہیں ڈرتیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے بات کرنا اقتدار میں رہنے والوں کے لیے ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ وہ کسی سزا سے باز نہیں آئیںگی۔ اگر خواتین کی حفاظت اور ریزرویشن کے لیے بات کرنا جرم ہے تو وہ بار بار اس کا ارتکاب کریں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے اندر ایسے لوگ ہیں جن پر سنگین الزامات ہیں، پھر بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، جب کہ لڑنے والوں کو عدالت میں گھسیٹا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ان کی 30 سالہ سیاسی جدوجہد کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ خواتین کے تحفظ اور ریزرویشن کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی کی راو¿ز ایونیو کورٹ نے الکا لامبا کو 2024 میں خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرنے اور جنتر منتر پر احتجاج کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشونی پنوار نے الکا لامبا کی سزا کی حد کے معاملے پر 5 جون کو سماعت کا حکم دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ