
داخ، 24 مئی (ہ س)۔
لداخ کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ لداخ کے نمائندوں اور مرکزی حکومت کے درمیان حالیہ مذاکرات ایک مثبت پیش رفت ہیں، تاہم خطے میں اعتماد سازی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کے احتجاجی معاملات، مظاہرین پر درج مقدمات اور ذاتی آلات کی ضبطی جیسے مسائل اب بھی برقرار ہیں۔
سونم وانگچک نے وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ ہونے والی حالیہ میٹنگ کے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ جمعرات کو ہونے والی بات چیت سے ان کے موقف میں کچھ تبدیلی آئی ہے، ورنہ وہ کافی مایوس تھے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں لداخ میں کشیدگی بڑھ رہی تھی اور حالات منی پور جیسے رخ کی طرف جاتے محسوس ہو رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ لیہہ اور کرگل کے درمیان اختلافات بڑھ رہے تھے جبکہ مختلف طبقات کے درمیان بھی تقسیم پیدا ہو رہی تھی، جس سے اعتماد سازی متاثر ہو رہی تھی۔ تاہم حالیہ مذاکرات کے بعد انہیں کچھ راحت محسوس ہوئی ہے اور دونوں فریقوں نے مثبت قدم اٹھایا ہے۔
وانگچک نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران ضبط کیا گیا ان کا موبائل فون اب تک واپس نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فون نہ ہونے کی وجہ سے وہ ڈیجیٹل خدمات سے محروم ہو چکے ہیں اور عملی طور پر ڈیجیٹل انڈیا میں غیر فعال بنا دیے گئے ہیں۔انہوں نے ہمالین انسٹویٹ آف الٹرنیٹیوز لداخ کی زمین اور ایف سی آر اے لائسنس کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تمام دستاویزات ہونے کے باوجود ادارے کو مشکلات کا سامنا ہے۔
سونم وانگچک نے کہا کہ اصل اعتماد اس وقت بحال ہوگا جب 24 ستمبر کے احتجاجی واقعات سے متعلق مقدمات واپس لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران کئی افراد زخمی ہوئے، بعض کی جان گئی اور متعدد لوگوں پر مقدمات درج کیے گئے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکز کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے بعد زیر التوا مسائل، مقدمات اور ادارہ جاتی معاملات کے حل کی جانب بھی پیش رفت ہوگی۔واضح رہے کہ لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے حال ہی میں وزارت داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ لداخ کے آئینی تحفظات، جمہوری اختیارات اور انتظامی ڈھانچے پر مذاکرات کیے تھے۔ دونوں تنظیمیں لداخ کو ریاستی درجہ، زمین و ملازمتوں کے تحفظ اور زیادہ جمہوری اختیارات دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر