لکھنؤ میں سہارا سٹی کی زمین پرتعمیر کی جائے گی اتر پردیش اسمبلی کی نئی عمارت
لکھنؤ، 23 مئی (ہ س)۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایک نئی قانون ساز اسمبلی کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ یہ نیا کمپلیکس گومتی نگر میں واقع ''سہارا سٹی'' کی 245 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے
لکھنؤ میں سہارا سٹی کی زمین پر اتر پردیش اسمبلی کی نئی عمارت تعمیر کی جائے گی


لکھنؤ، 23 مئی (ہ س)۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایک نئی قانون ساز اسمبلی کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ یہ نیا کمپلیکس گومتی نگر میں واقع 'سہارا سٹی' کی 245 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے پروجیکٹ کے ڈیزائن اور منصوبہ بندی کے لیے مشیر اور آرکیٹیکٹ کے انتخاب کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے۔ اس نئی عمارت کی تعمیر کے ساتھ ہی اس وقت حضرت گنج میں واقع 98 سال پرانی قانون ساز عمارت ریٹائر کردی جائے گی اور تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو جائے گی۔

1994 میں میونسپل کارپوریشن نے گومتی نگر میں 245 ایکڑ زمین سہارا انڈیا گروپ کو 30 سال کی مدت کے لیے لیز پر دی۔ لیز کی میعاد گزشتہ سال، 2025 میں ختم ہوئی۔ لیز کی شرائط کی خلاف ورزیوں اور لیز کی مدت کی تکمیل کے بعد، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے زمین پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس 245 ایکڑ مجوزہ اراضی میں سے 170 ایکڑ میونسپل کارپوریشن کی ملکیت ہے جبکہ 75 ایکڑ ایل ڈی اے کی ہے۔ اسی جگہ پر اب اتر پردیش کی ہائی ٹیک قانون ساز اسمبلی تعمیرکی جائے گی۔

اس نئے کمپلیکس کو مستقبل کی حد بندی کی مشقوں کے بعد اراکین اسمبلی کی تعداد میں ممکنہ اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں کمپلیکس کی ڈیزائن کا تصور کیا گیا ہے جس میں نہ صرف قانون ساز اسمبلی بلکہ قانون ساز کونسل، وزراء کے چیمبرس، جدید سہولیات، بہتر پارکنگ کی سہولیات، سبزہ زار، اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ اسکے علاوہ یہ مکمل طور پر پیپر لیس ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی اور انتہائی اہم شخصیات کی آمد و رفت کے لئے موزوں راہداری بھی تعمیر کی جائے گی۔

ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین پرتھمیش کمار نے بتایا کہ نئی اسمبلی کی عمارت کی تعمیر کے ڈیزائن اور منصوبہ بندی کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے کنسلٹنٹس اور آرکیٹیکٹس کے انتخاب کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔ دلچسپی رکھنے والی کمپنیاں 23 مئی سے 21 جون کے درمیان اس ٹینڈر کے عمل کے لیے اپنی درخواستیں جمع کر سکتی ہیں۔ ایک بار کنسلٹنٹ کا انتخاب ہو جانے کے بعد، تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) اور منصوبے کی کل تعمیراتی لاگت کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ہاؤسنگ اور شہری منصوبہ بندی کے محکمے کو اس پورے پروجیکٹ کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جبکہ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) تکنیکی پہلوؤں کی نگرانی کرے گا۔ کنسلٹنٹ کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد حکومتی سطح پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کے بعد، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے ایک پریزنٹیشن پیش کی جائے گی۔

11 فروری کو، اتر پردیش کے وزیر خزانہ سریش کھنہ نے 27-2026 کے بجٹ میں ایک نئی اسمبلی کی تعمیر کے لئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے تھے۔ 4 فروری کے اوائل میں، حکومت نے ایل ڈی اے کو ایک مناسب جگہ کی نشاندہی کرنے اور ڈیزائن کی تجویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی حضرت گنج کے علاقے میں 21 فروری 1928 کو تعمیر کی گئی تھی۔ اراکین اسمبلی کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے، تقریباً 98 سال پرانی عمارت کو اس وقت جگہ کی قلت کا سامنا ہے۔ اسکے علاوہ مرکزی راستے پر اس کا مقام وی آئی پی کی نقل و حرکت اور اہم اجلاس کے دوران ٹریفک میں خلل کا باعث بنتا ہے۔ نئی عمارت کی تعمیر سے ان تمام مسائل کا حل نکلنے کی امید ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande