
نئی دہلی، 23 مئی (ہ س) ۔
قومی کمیشن برائے خواتین نے دارالحکومت کے جامعہ نگر میں ایک دلت خاتون کے مبینہ اغوا، اجتماعی عصمت دری اور جبراً تبدیلی مذہب کے معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے۔
کمیشن کی چیئرپرسن وجئے رہاتکر نے دہلی پولیس کمشنر کو خط لکھ کر اس معاملے میں فوری اور سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ کمیشن نے سات دن میں کارروائی کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ اسے کئی دنوں تک قید رکھا گیا اور کئی لوگوں نے بار بار اس کی عصمت دری کی۔ کمیشن نے ایف آئی آر، ملزم کی گرفتاری، طبی اور فرانزک جانچ، مجسٹریٹ کے سامنے اس کا بیان ریکارڈ کرنے اور متاثرہ کی حفاظت اور بحالی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق معلومات طلب کی ہیں۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں کمیشن کی چیئرپرسن نے کہا کہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد، ذات پات کی بنیاد پر مذہبی دباو¿ کے معاملات میں قانون کے تحت سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
کمیشن نے ایف آئی آر کے اندراج، تعزیرات ہند اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات، تمام ملزمین کی گرفتاری، طبی اور فرانزک ٹیسٹ، مجسٹریٹ کے سامنے متاثرہ کے بیان کی ریکارڈنگ، اور اس کی حفاظت، رازداری، مشاورت اور بحالی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔ کمیشن نے سات دن میں تفصیلی کارروائی کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ