
حیدرآباد ،2 مئی (ہ س)۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدرنواب مجاہد عالم خاں نے کمرشیل ایل پی جی سلینڈر کی قیمت میں 993 روپئے کا اضافہ کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اپنے فیصلہ کوواپس لینے کامطالبہ کیا۔ بصورت دیگراحتجاجی مہم شروع کرنے کا انتباہ دیا۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب مجاہد عالم نے کہا کہ چند دن قبل ہی کانگریس کے سینئر قائد راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ملک کی پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعد پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے،ان کی بات سچ ثابت ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت نے انتخابات کے دوسرے دن کمرشیل گیس کی قیمتوں میں تقریباً ایک ہزارروپئے اضافہ کرتے ہوئے چھوٹے کاروباری تاجروں اورعوام پراضافی مالی بوجھ عائد کردیا ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کمرشیل سلینڈر کی قیمت تقریباً 1992 روپئے تھی جس میں 7 مارچ کو 115 روپئے ، یکم اپریل کو 215 روپئے اور یکم مئی کو اچانک 993 روپئے کا اضافہ کیا گیا۔ اس اضافہ کے بعد اب ایک کمرشیل سلینڈر کی قیمت بڑھ کر3,315 روپئے پہنچ گئی ہے۔ نواب مجاہد عالم خاں نے کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت انتخابات کے دوران قیمتوں میں قابو میں رکھتی ہے اور بعد میں اچانک اضافہ کردیتی ہے جس سے عوام پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے استفسار کیا کہ وہ عوام کو واضح کریں کہ انتخابات کے بعد قیمتیں بڑھانے کی وجہ کیا ہے۔ نائب صدر پردیش کانگریس کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اس اضافہ سے ہوٹل ، ریستوراں اور چھوٹے کاروبار شدید متاثر ہوں گے جبکہ عام آدمی جو پہلے سے مہنگائی سے جوجھ رہا ہے اس پر مزید بوجھ پڑے گا۔۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق