بھوپال میں مانس بھون کے پاس 70 سال پرانی قبائلی بستی ہٹا دی گئی، احتجاج کرنے والوں پرپولس کا لاٹھی چارج، کانگریس لیڈر حراست میں
27 خاندانوں کی منتقلی، علاقہ پولیس چھاونی میں تبدیل، باز آباد کاری سے متعلق سوالات اٹھے بھوپال، 02 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے پولی ٹیکنک چوراہا پر واقع مانس بھون علاقے میں ضلع انتظامیہ نے ہفتہ کی صبح بڑی کارروائی کرتے ہوئے ت
احتجاج پر ہلکا لاٹھی چارج


27 خاندانوں کی منتقلی، علاقہ پولیس چھاونی میں تبدیل، باز آباد کاری سے متعلق سوالات اٹھے

بھوپال، 02 مئی (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے پولی ٹیکنک چوراہا پر واقع مانس بھون علاقے میں ضلع انتظامیہ نے ہفتہ کی صبح بڑی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 70 سال پرانی قبائلی بستی کو ہٹا دیا۔ صبح تقریباً چھ بجے شروع ہونے والی اس کارروائی میں جھگیوں کو توڑا گیا، جو دوپہر تقریباً تین بجے تک جاری رہی۔ پورے علاقے کی پولیس نے ناکہ بندی کرکے اسے سیل کر دیا تھا اور بیریکیڈنگ کر کے آمد ورفت مکمل طورپربند کردی گئی۔

کارروائی کے دوران احتجاج میں بھی شدت آئی۔ مقامی رہائشیوں اور کانگریس لیڈروں نے موقع پر پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ حالات بگڑنے پر پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا اور کچھ لیڈروں کو حراست میں لیا، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔ کارروائی کے خلاف کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری، سابق وزیر پی سی شرما، میونسپل کارپوریشن میں حزب اختلاف رہنما شبستاں ذکی اور آصف ذکی سمیت کئی لیڈر موقع پر پہنچے اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔ایک نوجوان احتجاجاً ٹاور پر چڑھ گیا، جسے پولیس نے سمجھا بجھا کر نیچے اتارا۔ ہنگامہ بڑھنے پر پولیس نے ہلکا بل استعمال کیا اور کچھ مظاہرین کو حراست میں لیا۔ کانگریس لیڈروں نے کارروائی کو غریب اور قبائلی مخالف قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کی بات کہی۔

انتظامیہ کے مطابق، اس کارروائی میں 27 خاندانوں کو ہٹایا گیا ہے۔ انہیں بھوری، کل کھیڑا اور مالی کھیڑی میں وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت بنے 1 بی ایچ کے فلیٹس میں شفٹ کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ زمین محکمہ جنگلات کی ہے اور یہاں طویل عرصے سے تجاوزات تھیں۔ تقریباً 95 افسران و ملازمین کی ٹیم، چار بلڈوزر اور بھاری پولیس فورس کے ساتھ کارروائی کو انجام دیا گیا۔

کارروائی کے دوران رہائشیوں اور پولیس کے درمیان نوک جھونک ہوئی۔ کچھ لوگوں نے پولیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ پورے علاقے میں واٹر کینن اور بھاری پولیس فورس تعینات رہی۔ بستی کے باہر روکے گئے لوگ سڑک پر بیٹھ کر مظاہرہ کرتے رہے۔ خواتین اور بچوں نے دھوپ میں بیٹھ کر کارروائی کی مخالفت کی اور باز آباد کاری کے واضح انتظام کا مطالبہ اٹھایا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں مستقبل میں ترقیاتی منصوبے، جیسے کہ رام میوزیم، مجوزہ ہیں۔ وہیں، رہائشی اور اپوزیشن جماعتیں اس کارروائی کو بغیر کسی مناسب باز آباد کاری اور انسانی نقطہ نظر کے اٹھایا گیا قدم قرار دے رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande