راجستھان سے کارٹن میں بھر کر مدھیہ پردیش لائی گئیں 5 لوگوں کی استھیاں، ایک ہی چتا پر آخری رسومات ادا کی گئیں
الور میں ایکسپریس وے پر چلتی کار میں آگ لگنے سے زندہ جل گئے تھے شیوپور کے پانچ لوگ شیوپور، یکم مئی (ہ س)۔ راجستھان کے الور میں دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر چلتی کار میں اچانک آگ لگنے سے زندہ جلے مدھیہ پردیش کے شیوپور کے ایک ہی خاندان کے پانچ لوگوں
شیوپور میں آخری رسومات ادا کرتے اہل خانہ


آخری رسومات کی تیاری کرتے اہل خانہ


الور میں ایکسپریس وے پر چلتی کار میں آگ لگنے سے زندہ جل گئے تھے شیوپور کے پانچ لوگ

شیوپور، یکم مئی (ہ س)۔ راجستھان کے الور میں دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر چلتی کار میں اچانک آگ لگنے سے زندہ جلے مدھیہ پردیش کے شیوپور کے ایک ہی خاندان کے پانچ لوگوں کی استھیاں جمعہ کو کارٹن میں بھر کر ان کے گاوں لائی گئیں۔ یہاں دوپہر تقریباً 12 بجے ایک ارتھی پر کارٹن رکھ کر شو یاترا نکلی گئی۔ کھیت میں ایک ہی چتا پر پانچوں کارٹن رکھ کر آخری رسومات ادا کی گئیں۔

دراصل، شیوپور کے گرام چین پورہ کے ساکن خاندان (پانچ لوگ) کرائے کی کار سے منت پوری ہونے پر درشن کرنے کے لیے جموں و کشمیر کے ویشنو دیوی مندر گئے تھے۔ وہاں سے لوٹتے وقت بدھ کی دیر رات دہلی-ممبئی ایکسپریس وے پر لکشمن گڑھ کے پاس کار کے انجن میں اچانک آگ لگ گئی اور چند سیکنڈ میں پوری کار آگ کی زد میں آگئی۔ کار سوار لوگ باہر نہیں نکل سکے اور زندہ جل گئے تھے۔ اس حادثے میں پاروتی (55)، سنتوش (35)، اہلیہ ششی (30)، بیٹی ساکشی (9) اور چھوٹی بائی (79) کی موقع پر موت ہوگئی، جبکہ کار ڈرائیور ونود مہرا نے کسی طرح کود کر اپنی جان بچائی تھی، لیکن علاج کے دوران اسپتال میں اس کی بھی موت ہوگئی۔ وہ حادثے میں 80 فیصد جھلس گیا تھا۔ حادثے کے بعد سے خاندان میں ماتم پسرا ہے۔

حادثہ اتنا ہولناک تھا کہ پانچوں لوگوں کے جسم پوری طرح جل گئے تھے۔ پولیس نے بمشکل شناخت کی۔ سبھی کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا ہے، رپورٹ بعد میں آئے گی۔ جمعہ کی صبح پانچ کارٹن میں بھر کر استھیاں شیوپور لائی گئیں۔ اس کے بعد دوپہر تقریباً 12 بجے ایک ارتھی پر یہ کارٹن رکھ کر شو یاترا نکالی گئی۔ اس کے بعد کھیت میں ایک ہی چتا پر پانچوں کارٹن رکھ کر آخری رسومات ادا کی گئیں۔ تمام میتوں کو خاندان کے داماد ونود قبائلی نے مکھ اگنی دی۔

خاندان کو دلاسہ دینے کے لیے کانگریس رکن اسمبلی بابو جنڈیل پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی ارتھی پر پانچ چتائیں جلانا انتظامیہ اور پنچایت کی لاپرواہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرپنچ اور سکریٹری کو کال کر کے لکڑی کے انتظام کے لیے کہا گیا تھا، لیکن انتظام نہیں ہو سکا۔ اس لیے میتوں کی آخری رسومات ایک ہی چتا پر ادا کی گئیں۔ شمشان گھاٹ نہیں ہونے کی وجہ سے آخری رسومات نجی کھیت میں ادا کی گئیں۔

گاوں والوں کے مطابق، پاروتی بائی کے شوہر کا 20 سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ ان کی دو بیٹیاں ششی اور رچنا ہیں۔ ششی کی شادی 18 سال پہلے کراہل کے سرسود کے ساکن سنتوش سے ہوئی تھی۔ وہ گھر جمائی بن کر مزدوری کرتا تھا اور خاندان سنبھالتا تھا۔ رچنا پاس کے کمہار محلے میں رہتی ہے۔ رچنا نے بتایا کہ دو سال سے ماں کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی اور پوجا میں مصروف رہتی تھیں۔ کچھ دن پہلے انہوں نے کہا تھا کہ اب ٹھیک ہوں اور ویشنو دیوی جانا ہے، پھر گنگا جی اسنان کرنا ہے۔ یہی ان کی آخری خواہش تھی۔ اس کے لیے ارٹیگا کرائے پر لی۔ 24 اپریل کو شام گھر سے نکلے تھے۔ مجھے بھی چلنے کو کہا، لیکن میں نے گرمی، چھوٹے بچوں اور شادی کی وجہ سے منع کر دیا۔ لوٹ کر گنگا جانے کا پلان تھا، لیکن اس سے پہلے حادثہ ہو گیا۔

حادثے میں ڈرائیور ونود مہرا کی بھی موت ہوگئی۔ وہ ناگدا گاوں کا ساکن تھا، جو ضلع ہیڈ کوارٹر سے آٹھ کلومیٹر دور ہے۔ وہ کرائے پر گاڑی چلاتا تھا اور ارٹیگا کار اسی کی تھی۔ وہ دو بچوں کا باپ اور خاندان کا سب سے بڑا رکن تھا۔ وہ کار چلا کر خاندان کی پرورش کرتا تھا۔ تقریباً 20 ہزار روپے میں ویشنو دیوی گیا تھا اور وہ خود ہی کار چلا رہا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande