
تہران،یکم مئی (ہ س)۔ایرانی خبر رساں اداروں ’تسنیم‘ اور ’فارس‘ نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت تہران کی فضاو¿ں میں چھوٹے طیاروں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔تسنیم ایجنسی کے مطابق تہران کے بعض حصوں میں فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کی آواز سنی گئی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا اس کا تعلق کسی دفاعی تجربے سے ہے یا تہران کے اوپر ممکنہ طور پر اڑنے والے جاسوس ڈرونز کا مقابلہ کرنے سے ہے۔ فارس نیوز ایجنسی نے بھی اسی طرح کی رپورٹ شائع کی ہے۔
بعد ازاں دونوں خبر رساں اداروں نے اشارہ کیا کہ فضائی دفاعی نظام کو چھوٹے طیاروں اور جاسوس ڈرونز کو روکنے کے لیے فعال کیا گیا تھا۔ انھوں نے واضح کیا کہ فعال ہونے کے 20 منٹ بعد دفاعی نظام کی آوازیں تھم گئیں۔ مزید بتایا گیا کہ صورت حال معمول پر آ گئی ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعے کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مقرر کردہ مہلت ختم ہو رہی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں اس کی توسیع کے لیے کانگریس سے رجوع کرنا پڑے گا۔ تاہم اس ڈیڈ لائن کے گزرنے سے ممکنہ طور پر اس تنازع کی سمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جو فی الحال تعطل کا شکار ہے۔
دوسری جانب ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ فی الحال انتہائی بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔ایران نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے شروع کیے تو وہ امریکی ٹھکانوں پر طویل اور تکلیف دہ ضربوں کے ساتھ جواب دے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan