روی کے ایچ اے ایل کے 22ویں چیئرمین اور سی ایم ڈی بنے، ڈاکٹر ڈی کے سنیل سے چارج لیا
مینوفیکچرنگ اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ نئی دہلی، یکم مئی (ہ س)۔ روی کے نے جمعہ کو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے 22 ویں چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر چارج سنبھال لیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ڈی کے سنیل کی جگہ ل
ایچ اے ایل


مینوفیکچرنگ اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ

نئی دہلی، یکم مئی (ہ س)۔ روی کے نے جمعہ کو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے 22 ویں چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر چارج سنبھال لیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ڈی کے سنیل کی جگہ لی ہے جوجو 30 اپریل کو ریٹائر ہوگئے۔ مسٹر روی کے کو مینوفیکچرنگ اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں 30 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے، وہ ایچ اے ایل میں ڈائریکٹر (آپریشنز) تھے، جہاں انہوں نے اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی قیادت کی اور ایچ اے ایل کو مہارتنا کا درجہ حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد، روی کے نے کہا کہ ان کا وڑن ایچ اے ایل کو ایک عالمی سطح پر مسابقتی ایرو اسپیس اور دفاعی ادارے میں تبدیل کرنا ہے جو جدت، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، آپریشنل ایکسیلنس اور لوگوں کے ذریعے چلتا ہے۔ انہوں نے ایل سی اے تیجس ڈویڑن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جنرل مینیجر کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (کارپوریٹ پلاننگ) جیسے اہم کردار ادا کیے ہیں۔ انہیں ایچ اے ایل کے لیے کئی بڑے معاہدوں کو مکمل کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے، جس میں ہندوستانی فضائیہ کو 180 ایل سی اے تیجس، ہندوستانی فوج اور فضائیہ کے لیے 156 ایل سی ایچ پرچنڈا، اور ایل سی اے تیجس کے بیڑے کو فضائیہ میں آپریشنل کرنے کا معاہدہ شامل ہے۔

ایچ اے ایل کے مطابق، اس نے مختلف کسٹمر سینٹرک اقدامات کے ذریعے فلیٹ سروس کو بہتر بنایا۔ انہوں نے ایئر فورس کے اڈوں کے ساتھ ہموار ڈیٹا کمیونیکیشن کی سہولت فراہم کی اور بروقت کسٹمر سپورٹ کے لیے رابطہ کا ایک پوائنٹ قائم کیا۔ انہوں نے ایل سی اے تیجس پروگرام کو تیز کرنے کے لیے ناسک میں مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو بڑھا کر مقامی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کرناٹک کے ملناڈ کالج آف انجینئرنگ سے مکینیکل انجینئرنگ میں گریجویٹ مسٹر روی آئی آئی ایم احمد آباد اور آئی اے ایس، ٹولوز، فرانس کے سابق طالب علم ہیں۔ وہ ملٹی رول ٹرانسپورٹ ایئرکرافٹ لمیٹڈ کے بورڈ میں نامزد ڈائریکٹر بھی ہیں۔

انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے شراکت داروں کو بڑی فیوزلیج اسمبلی کو آو¿ٹ سورس کر کے ایک مضبوط مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ حکمت عملی اب مسلسل ترسیل کے ذریعے مثبت نتائج دے رہی ہے۔ ان کی کوششوں سے ایچ اے ایل کی سول مینوفیکچرنگ اور دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہال (ایم آر او) میں متنوع توسیع ہوئی، جس سے آمدنی کے نئے سلسلے پیدا ہوئے اور ہوا بازی کی مارکیٹ میں ایچ اے ایل کی موجودگی میں اضافہ ہوا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande