ایران پر پالیسی میں ٹرمپ کے ذاتی فیصلوں کو مرکزی حیثیت حاصل، سفارتی حلقوں میں تشویش
واشنگٹن ،09اپریل (ہ س )۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی میں ذاتی فیصلوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ روایتی سفارتی مشاورت کو کم اہمیت دی جا رہی ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو صدر ٹرمپ کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے اور انہی
ایران پر پالیسی میں ٹرمپ کے ذاتی فیصلوں کو مرکزی حیثیت حاصل، سفارتی حلقوں میں تشویش


واشنگٹن ،09اپریل (ہ س )۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی میں ذاتی فیصلوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ روایتی سفارتی مشاورت کو کم اہمیت دی جا رہی ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو صدر ٹرمپ کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا ہے اور انہیں صدر کا اعتماد حاصل ہے، جس کے باعث پالیسی اور حکمتِ عملی کی تشکیل میں ان کا اثر و رسوخ بھی موجود ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے ہمیشہ صدر ٹرمپ خود کرتے ہیں اور انتظامیہ کے قریبی افراد بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اہم حکمتِ عملی کا اختیار صدر کے پاس ہی ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ روایتی سفارتی اداروں، جیسے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پر کم انحصار کرتے ہیں اور زیادہ تر اپنے ذاتی اندازِ فکر اور احساس پر فیصلے کرتے ہیں، خود صدر کا کہنا ہے کہ بعض اوقات میں فیصلے اپنے اندرونی احساس کی بنیاد پر کرتا ہوں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ طرزِ عمل ٹرمپ کی شخصیت کا حصہ ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے امریکی انٹیلی جنس اداروں اور پیشہ ور سفارت کاروں پر عدم اعتماد اور شکوک کا اظہار کرتے آئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور حکمتِ عملی میں یہ طریقہ کار کسی مشترکہ مشاورت کے بجائے اوپر سے نیچے کی جانب فیصلوں پر مبنی ہے۔

سفارتی حلقوں میں اس صورتِ حال پر تشویش پائی جاتی ہے، جہاں ماہرین اور پیشہ ور سفارت کاروں کو نظر انداز کیے جانے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande