
مغربی بنگال انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹر لسٹ منجمد، ٹریبونل تک رسائی کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں
کولکاتا، 07 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹر فہرست پیر کی آدھی رات سے فریز (منجمد) کر دی گئی۔ چیف الیکشن آفیسر منوج اگروال نے واضح کیا ہے کہ ڈیڈ لائن کے بعد ٹریبونل کے حکم سے جن ناموں کو فہرست میں شامل کیا جائے گا، وہ اس مرحلے میں ووٹنگ نہیں کر سکیں گے۔ اگر کسی ووٹر کا نام ٹریبونل کے حکم سے بعد میں جوڑا جاتا ہے، تو وہ مستقبل کے انتخابات میں ووٹ ڈال سکے گا، لیکن اس مرحلے میں نہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق نظرِ ثانی کے عمل کے دوران تقریباً 60 لاکھ ووٹرز کے ناموں کی جانچ کی گئی تھی۔ ان میں سے تقریباً 58 لاکھ معاملات کا تصفیہ عدالتی افسران کے ذریعے کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ ہٹائے گئے ناموں کی صحیح تعداد نہیں بتائی گئی، لیکن اشارہ دیا گیا کہ طے شدہ معاملات میں سے تقریباً 45 فیصد معاملات میں نام ہٹائے جا سکتے ہیں۔ اس حساب سے تقریباً 27 لاکھ ووٹرز کے نام فہرست سے ہٹنے کا امکان ہے۔
متاثرہ ووٹرز کو ٹریبونل میں اپیل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، لیکن عام لوگوں کے لیے ٹربیونل مکمل طور پر کب سے کام کرنا شروع کریں گے، اس کو لے کر ابھی بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ٹریبونلز نے اب تک پانچ معاملات کی سماعت کی ہے۔ مجوزہ 19 ٹریبونلز میں سے ابھی صرف چھ کے لیے ہی بنیادی ڈھانچہ تیار ہو سکا ہے، جس سے ان کی دستیابی اور وقت کی حد کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ٹربیونل کمیٹی کو ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک یہ طریقہ کار تیار ہوگا، تب تک باقی 13 ٹربیونلز کا ڈھانچہ بھی تیار کر لیا جائے گا۔ تاہم عام لوگوں کی سماعت کب سے شروع ہوگی، اس کی کوئی واضح مدت نہیں دی گئی ہے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تمام 19 اپیلٹ ٹریبونلز کے لیے ایک جیسا طریقہ کار نافذ کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اس کے تحت کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو تین سابق سینئر چیف جسٹس یا ججوں کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کو کہا گیا ہے، جو تمام ٹریبونلز کے لیے ایک یکساں ڈھانچہ طے کرے گی۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ٹربیونل فیصلہ کرتے وقت عدالتی افسران کے احکامات سمیت تمام دستاویزات کی جانچ کریں گے اور کمیٹی کے طے کردہ طریقہ کار پر عمل کریں گے۔ عدالت نے امید ظاہر کی ہے کہ اپیلوں کے فوری تصفیے کے لیے یہ عمل منگل تک حتمی شکل اختیار کر لے گا۔ اس کے علاوہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفاتر کو آف لائن اپیل جمع کرانے والوں کو رسید دینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ اس دوران الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر ریاست میں آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انتخابات کرانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن