
ٹرمپ کا بڑا دعویٰ-ایران میں سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، ایک رات میں تباہی کی وارننگ
واشنگٹن، 07 اپریل (ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے حوالے سے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج نے دشمن کے علاقے میں پھنسے اپنے ایک پائلٹ کو بچانے کے لیے ”اب تک کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن“ کیا۔ وائٹ ہاوس میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ اس مہم میں تقریباً 200 فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور 21 فوجی طیارے دشمن کی فضائی حدود میں بھیجے گئے۔ ان کے مطابق، پائلٹ ایران کے علاقے میں گرا تھا اور انتہائی خطرناک حالات میں اسے محفوظ باہر نکالا گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ آپریشن کے دوران امریکی طیاروں پر انتہائی قریب سے فائرنگ کی گئی، لیکن اس کے باوجود فوج نے ہمت دکھاتے ہوئے مشن کو کامیابی سے انجام دیا۔ انہوں نے امریکی فوجیوں کی ”شجاعت اور بہادری“ کی ستائش کی۔ تاہم، اپنے بیان میں ٹرمپ نے سخت رخ بھی اختیار کیا۔ انہوں نے وارننگ دی کہ امریکہ ”صرف ایک رات میں پورے ایران کو برباد کر سکتا ہے“ اور ایسی کارروائی کبھی بھی ممکن ہے۔ اس بیان سے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آپریشن کے دوران ایک امریکی طیارے کو خود ہی تباہ (سیلف ڈسٹرکٹ) کرنا پڑا، تاکہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشن سے متعلق حساس معلومات افشاء ہو گئی تھیں، جس کی جانچ اب تیز کر دی گئی ہے۔ اس دوران انہوں نے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے کردار کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے پوری مہم میں اہم تعاون کیا۔
دوسری جانب، ایران کی طرف سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ملک کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ رہنماوں کے قتل یا حملوں سے ایران رکنے والا نہیں ہے۔
وہیں، سیز فائر (جنگ بندی) کے سلسلے میں ایران نے صاف کہا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی نہیں، بلکہ جنگ کا مکمل اور ہمیشہ کے لیے خاتمہ چاہتا ہے۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک کے بیانات نے حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن